ایک سرکاری سکول کے عظیم استاد کی یاد میں
تحریر:عاطف ملک پچھلے دنوں فیس بک پر نوٹیفکیشنز آئیں کہ آپ کو ٹیگ کیا گیا ہے ۔ دیکھا تو چند پرانے طالبعلموں نے مختلف صفحات پر ان اساتذہ میں شامل کیا تھا جنہیں وہ یاد کرتے ہیں۔ اس سے قبل بھی کچھ پرانے طلبا نے جب پیشہ ورانہ زندگی شروع کرنے پر پڑھائے گئے مضمون کی افادیت پائی تو ای میل کر کے اپنے تاثرات بھیجے تھے۔ اپنے دامن میں جھانکتا ہوں تو کچھ بھی نہیں پاتا، بس ایک اطمینان ہے کہ وقت ِسوال کچھ تو پیش کرنے کے قابل ہوں گا۔ یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصہء محشر میں ہے پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے کچھ کہانیاں سنا پائے، کچھ زندگیوں میں اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کی، خود پیاسے تھے، آگے بھی پیاس دیتے رہے۔ شاباشیں دیں، ڈانٹیں بانٹیں، محبتیں جہاں ملیں، نفرتوں کا بھی شکار ہوئے۔ کہیں غلطیاں بھی کیں، بس نیت ٹھیک تھی۔ کچھ کے آگے چلے، کچھ ایسے ملے کہ جن کے پیچھے چلنے کو بہتر جانا۔ ایک ادھیڑ عمر طالبعلم ملا جس نے جدوجہد کے معنی سمجھا دیے۔ ایک انجینیرنگ پڑھ...
Comments
Post a Comment