بوسنیا کا سفر، قسط دوم
تحریر: عاطف ملک قسط اول درج ذیل لنک پر ہے۔ https://aatifmalikk.blogspot.com/2026/09/blog-post.html گھر سے ایرپورٹ جانے کے لیےاوبر سے گاڑی منگوائی تھی۔ ڈرائیور کا نام محمد رسل شیخ تھا۔ بات ہوئی توعلم ہوا کہ بنگلہ دیشی ہے اور ابھی یونیورسٹی سے بزنس میں اعزاز کے ساتھ ماسٹر ڈگری حاصل کرکے فارغ ہوا ہے۔ پوچھا کہ رسل نام رکھنے کی کیا بنیاد تھی؟ کہنے لگا کہ والد فلسفی برٹرینڈ رسل سے متاثر تھے اور پھر ان کی خواہش تھی کہ بیٹا بیرون ملک جا کر پڑھے سو انہوں نے رسل نام چنا۔ زندگی کے سفر میں مسافر کو کئی افراد سے واسطہ پڑا۔ نام علاقے، زبان، معاشرت، مذہب، احترام سب کو سموتے ہیں۔ بچپن کی یاد میں ایک کالے خان نام کا آدمی ہے، بوڑھا تھا، آگے پیچھے کوئی نہ تھا۔ ایک کمرے میں رہتا تھا جس میں اس کے ساتھ پچاس سے زیادہ کبوتر شریک تھے۔ اس کے علاوہ بٹیروں اور تیتروں کے پنجرے صبح کمرے سے نکال کر باہر رکھتا تھا۔ کالے تیتر سبحان تیری قدرت کی بولی لگاتے تھے۔ بچے کی یاد میں کالے خان ہے، کبھی نہ سوچا تھا کہ وہ کہاں سے کماتا کہ ان پرندوں کو خوراک دے پائے۔ اب علم نہیں کہ وہ پرن...