بوسنیا کا سفر
بوسنیا کا سفر تحریر: عاطف ملک مسافر تھائی ایر لائن کی پرواز پر بوسنیا کے لیے روانہ ہوا۔ یہ ایک لمبا سفر تھا۔ پہلے بنکاک چھ گھنٹے کی پرواز تھی، پھر وہاں سے پیرس کی بارہ گھنٹے کی پرواز تھی۔ پیرس کے چارلس ڈیگال ایرپورٹ سے ایر سربیا کی پرواز نے بلغراد لے کر جانا تھا، اور پھر بلغراد سے سراجیو کی پرواز تھی۔ یہ عجب چناؤتھا۔ نوے کی دہائی میں جب بوسنیا جل رہا تھا تو مسافر یورپ کی ایک یونیورسٹی میں طالب علم تھا۔ طالب علم کے یونیورسٹی ہوسٹل کے ساتھ پناہ گزینوں کا کیمپ تھا ۔طالب علم آٹھویں منزل پر رہتا تھا اور ساتھ کا کیمپ جو کبھی یونیورسٹی کا حصہ رہا تھا ، اس میں تاروں کی چاردیواری تھی جس میں تیس میٹر ضرب تیس میٹر کی ایک عمارت تھی یعنی تقریباً دو ڈھائی کنال کی ایک عمارت تھی۔ اس میں سینکٹروں افراد رہتے تھے جن میں ایک بڑی تعداد بوسنین کی تھی، گورے چٹے بچے ، خوبصورت عورتیں، مگر مرد بہت کم تھے۔ زیاد ہ تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔ طالب علم انہیں کوہ قاف کا باسی جانتا تھا۔ پریاں جنہیں لمبے دانتوں والے کریہہ صورت دیوؤں نے د...