بوسنیا کا سفر، قسط سوم
تحریر: عاطف ملک قسط دوم درج ذیل لنک پر ہے۔ https://aatifmalikk.blogspot.com/2026/10/copyright-all-rights-reserved-no.html مسافر ایرپورٹ پہنچا۔محمد رسل کو خداحافظ کہا، وہ جوان تھا، جدوجہد نتیجے سے قطع نظر اس کے سامنے کھڑی تھی۔ مسافر نے برٹرینڈ رسل نہیں پڑھا تھا مگر اس کا ایک قول کہیں سامنے آیا تھا کہ " کچھ خواہشات کو حاصل نہ کرپانا خوشی کا لازمی حصہ ہے"۔ زندگی میں بعض انتظار خوش اور بعض ملاقاتیں ناخوش کر جاتی ہیں۔خواہشات اور خوشی ایک نہیں، یہ پہچان لمبے سفر کے بعد ہی آتی ہے۔ مسافر تھائی ایر لائن کے کاونٹر پر تھا۔ سامان کم تھا، سامان کم ہو تو سفر آسان رہتا ہے۔ کاؤنٹر پر موجود خاتون ملنسار اور مددگار تھی۔ مسافر کے سفر کو دیکھا تو کہا کہ یہ لمبا سفر ہے۔ جب اُسے علم ہوا کہ مسافر درس و تدریس کے شعبے سے ہے تو اس کا رویہ مزید مددگار ہوگیا۔ مسافر نے آن لائن چیک ان کیا تھا۔ پہلی فلائیٹ میں تو کئی نشستیں خالی تھیں مگر اگلی بارہ گھنٹے کی فلائیٹ میں صرف دو سیٹیں نظر آرہی تھیں اور وہ درمیان کی تھیں، ایسے میں باہر نکلنا ہو تو دوسروں کو تکلیف دینا ...