Posts

قبرستان کہانیاں

تحریر: عاطف ملک قبرستان کے باہر لکڑی کے تختے  پر گلاب کی پتیوں کا ڈھیر تھا۔ وہ پتیاں جو مرجھاتے ہوئے پھولوں سے اتاری گئیں، اور ان پتیوں سے زیادہ مرجھائی عورت  لکڑی کے تختے پر بیٹھی ان پتیوں کو فروخت کر رہی تھی۔ وہ لکڑی کا تختہ اور لاشوں کو نہلانے کے تختے کا ماخذ ایک ہی تھا۔  قبریں، کیکر کے درختوں سے گرتے پتے اور زمین پر بکھرے کانٹے، کسی  کم سن کی کچی قبر پر بکھرے سرخ دال کے دانے، گورکن کےغمزدہ کمرے کے باہر بھنگ گھوٹتا مریل جسم، اپنی عمریں ضائع کرتی پکی قبریں اور زمین میں  دھنستی کچی قبریں؛ قبرستان کا منظر اپنی صدا لگاتا ہے۔  قبروں کے درمیان سے بل کھاتے رستے جو کسی اور قبر کے آنے سے بند ہوجاتے، کچی راہیں جو قبروں میں چلتی یک دم رک جاتیں، ایسے ہی جیسے کئی قبر وں کے مکین یک دم چلتے گرے  تھے، کبھی نہ اٹھنے کے لیے۔  قبرستان  کے راستے لوڈو کھیل کے سانپوں کی مانند بے ترتیب ہوتےہیں، اور یہاں تک کا سفر بھی شاید کسی اتفاقیہ کھیل  کا تابع ہے۔ اُس دن ایک کوا اڑتا قبرستان پہنچا اور اس نے کائیں کائیں کے بیچ میں رک کر اتفاقاً کم سن کی قبر پر بکھری سرخ ...

سوال

Image
وہ   دن بھی عجب تھا۔ اس دن دو واقعات پیش آئے۔ دونوں کا ایک دوسرے سے براہ راست تعلق نہ تھا ،مگر   ایک تعلق ضرور تھا۔ لاہور میں گھر کے ساتھ ایک پارک ہے۔ اکثر صبح کے وقت میں اور اہلیہ وہاں   واک کے لیے جاتے ہیں۔ اس دن صبح کے وقت سیر کے لیے نہ جاسکے سو   دوپہر کے وقت جاپہنچے۔ دیکھا کہ پارک میں داخل ہونے والاسلاخ دار دروازہ تالہ بند ہے۔ پارک میں کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ ایک تقریباً دس سال کا بچہ سامنے تھا۔ اُس سے پوچھا کہ میاں پارک کیوں بند ہے؟ کہنے لگا کہ پارک صبح کچھ گھنٹے کھلتا ہے اور اس کے بعد بند کردیا جاتا ہے۔ کھلا پارک ہے مگر زنداں کی مانند کا سلاخ دار دروازہ کبھی کھولا جاتا ہے اور پھر مقفل ہو جاتا ہے کہ   آزادی اور قید دونوں کے احساس ساتھ ساتھ چلیں۔ پوچھا، میاں تم کیسے پارک میں داخل ہوئے؟ کہنے لگا شوق سچا ہو تو راہ نکل ہی آتی ہے۔ مقفل دروازے کے نیچے کے   چوکور چوکٹھے کی جانب اشارہ کیا کہ جب راہ بند ہو تو نیا راہ ڈھونڈا جاتا ہے سو یہ راستہ اپنایا ہے۔     کوئی مسلہ نہیں ہے، ادھر سے تشریف لائیں۔ ہماری ہچکچاہٹ کو بھانپ گیا سو حوصلہ افزائی...

چین کا سفر، بارہویں قسط

Image
     تحریر: عاطف ملک پچھلی قسط (گیارہویں)  درج ذیل لنک پر ہے: https://aatifmalikk.blogspot.com/2025/10/blog-post_20.html   راہ   میں کئی منظر تھے۔ ایک     بنک بند تھا مگر اس کے سامنے فٹ پاتھ پر کرسی پر براجمان ایک چینی   مٹھی چاپی کروا رہا تھا ، سامنے ایک گتے کے بورڈ پر دس یوان کا ریٹ بڑا بڑا لکھا تھا۔   مالش کروانے والا موٹا تازہ چینی تھا جس کے کندھوں پر تولیہ رکھ کر   مالشی کندھے دبار ہا تھا۔   مالشی کے سر منڈھے سر پر مشین پھری تھی اور اس   نے زرد رنگ کی پتلی واسکٹ قمیص پر پہن رکھی تھی، جس پر چینی زبان میں کچھ لکھا تھا۔ مسافر نے گمان میں وہ تحریر پڑھی، لکھا تھا" شہر کاسب سے بہترین مالشی"۔   مسافر نے سفرِ حیات میں کئی مالشی دیکھے تھے، سب اپنے فن کو نکھارے تھے مگر بورڈ نہیں لگائے تھے کہ وہ فٹ پاتھ پر نہیں بلکہ ایر کنڈیشنڈ دفاتر میں مالش کرتے تھے۔مسافر کو   لان زو کی اُس فٹ پاتھ پر وہ اس مالشی کے   ساتھ       کھڑے نظر آئے، ٹائی کوٹ پہنے مگر ان کے کاندھوں پر تولیے دھرے تھے اور ان کے سر...