بوسنیا کا سفر، چوتھی قسط
تحریر: عاطف ملک قسط سوم درج ذیل لنک پر پڑھی جاسکتی ہے۔ https://aatifmalikk.blogspot.com/2026/10/blog-post.html پیرس پہنچ کر اگلی دو پروازیں پہلے بلغراد اور پھر سراجیو کے لیے تھیں۔ پیرس میں تین ایرپورٹ ہیں اور تھائی ایر لائن نے چارلس ڈیگال ایرپورٹ پر اترنا تھا۔ سراجیو کے لیے ڈائریکٹ پرواز دوسرے ایرپورٹ سے تھی، مسافر کو اپنا سامان لے کر دوسرے ایرپورٹ پر جانا پڑتا ۔ اس میں وقت اور خرچ زیادہ تھا، سو چارلس ڈیگال سے ہی ایر سربیا کی فلائیٹ لینا تھی جو پہلے سربیا کے دارلحکومت بلغراد جاتی اور پھر وہاں سے اگلی پرواز نے سراجیو جانا تھا۔ مسافر زندگی کے تضادات کے بارے میں سوچتا تھا کہ وہ بوسنیا سربوں کی سفاکی دیکھنے ایر سربیا پر جارہا تھا۔ سوسراجیو پہنچتےچار پروازیں لینا تھیں کہ ایک اور پرواز کا سامنا تھا مجھ کو، میں ایک پرواز سے اترا تو میں نے دیکھا۔ ان حالات میں مسافر کا زور پہلی دو پروازوں میں سونے پر تھا۔ دوسری فلائیٹ کہ بنکاک سے پیرس کی تقریباً بارہ گھنٹے میں تھی سو اس میں کچھ سویا اور کچھ ایک فلم دیکھی۔ اس کا نام ٹرین ڈریمز بمعنی ریل...