Posts

Showing posts from 2026

بوسنیا کا سفر، قسط دوم

تحریر: عاطف ملک  قسط اول درج ذیل لنک پر ہے۔ https://aatifmalikk.blogspot.com/2026/09/blog-post.html   گھر سے ایرپورٹ جانے کے لیےاوبر سے گاڑی منگوائی تھی۔ ڈرائیور کا نام محمد رسل شیخ تھا۔ بات ہوئی توعلم ہوا کہ بنگلہ دیشی ہے اور ابھی یونیورسٹی سے بزنس  میں اعزاز کے ساتھ ماسٹر ڈگری حاصل کرکے فارغ ہوا ہے۔ پوچھا کہ رسل نام رکھنے کی کیا بنیاد تھی؟ کہنے لگا کہ والد فلسفی برٹرینڈ رسل سے متاثر تھے اور پھر ان کی خواہش تھی کہ بیٹا بیرون ملک جا کر پڑھے سو انہوں نے رسل نام چنا۔    زندگی  کے سفر میں مسافر کو کئی افراد سے واسطہ پڑا۔ نام علاقے، زبان، معاشرت، مذہب، احترام سب کو سموتے ہیں۔ بچپن کی یاد میں ایک کالے خان نام کا آدمی ہے، بوڑھا تھا، آگے پیچھے کوئی نہ تھا۔ ایک کمرے میں رہتا تھا جس میں اس کے ساتھ پچاس سے زیادہ کبوتر شریک تھے۔ اس کے علاوہ بٹیروں اور تیتروں کے پنجرے صبح کمرے سے نکال کر باہر رکھتا تھا۔ کالے تیتر سبحان تیری قدرت کی بولی لگاتے تھے۔ بچے کی یاد میں کالے خان ہے، کبھی نہ سوچا تھا کہ وہ کہاں سے کماتا  کہ ان پرندوں کو خوراک دے پائے۔ اب علم نہیں کہ وہ پرن...

بوسنیا کا سفر، قسط اول

Image
بوسنیا کا سفر قسط اول تحریر: عاطف ملک مسافر   تھائی ایر لائن کی پرواز پر   بوسنیا کے لیے روانہ ہوا۔ یہ ایک لمبا سفر تھا۔ پہلے   بنکاک چھ گھنٹے   کی پرواز تھی، پھر وہاں سے پیرس کی بارہ گھنٹے کی پرواز تھی۔ پیرس کے چارلس ڈیگال ایرپورٹ سے ایر سربیا کی پرواز نے بلغراد لے کر جانا تھا، اور پھر بلغراد سے سراجیو کی پرواز تھی۔ یہ عجب چناؤتھا۔ نوے کی دہائی میں جب بوسنیا جل رہا تھا تو مسافر یورپ   کی ایک یونیورسٹی میں طالب علم تھا۔ طالب علم کے یونیورسٹی ہوسٹل کے ساتھ پناہ گزینوں کا کیمپ تھا ۔طالب علم   آٹھویں منزل پر رہتا تھا اور ساتھ   کا کیمپ جو کبھی یونیورسٹی کا حصہ رہا تھا ، اس میں تاروں کی چاردیواری تھی جس میں تیس میٹر ضرب تیس میٹر کی ایک   عمارت تھی یعنی تقریباً   دو ڈھائی کنال کی ایک عمارت تھی۔ اس میں سینکٹروں افراد رہتے تھے جن میں ایک بڑی تعداد بوسنین کی تھی، گورے چٹے بچے ، خوبصورت عورتیں، مگر مرد بہت کم تھے۔ زیاد ہ تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔    طالب علم انہیں کوہ قاف کا باسی جانتا تھا۔ پریاں جنہیں لمبے دانتوں والے کریہہ صورت دی...

مسافر سفر میں ہے

Image
تحریر: عاطف ملک  یہ قصہ تھائی لینڈ کے شہر شیانگ مائی کے بارے میں ہے ، جہاں کچھ عرصہ قبل جانے کا اتفاق ہوا ۔ بکنگ ڈاٹ کام سے ایک بانسوں کا ہٹ بک کروا لیا تھا ۔ تصویروں میں دیکھا کہ زمین سے اوپر بانسوں کا چھپر ہے جس کے ساتھ ہی ایک ٹوائلٹ تھا۔ زندگی میں کچھ وقت خیموں میں گذرا تھا، سو اچھا لگا   کہ پرانی   یادیں تازہ کرلیں۔ ایئر کنڈیشن نہیں تھا بلکہ پیڈسٹل پنکھا دھرا تھا۔   مساف   ایڈونچر چاہتے تھا سو اس لیے بانسی چھپر کو بک کر لیا ۔   بانسوں کا چھپر چھپر کا باتھ روم شیانگ مائی یئرپورٹ پر اترے ۔ ایئرپورٹ شہر کے قریب ہے ۔   ٹیکسی لی اور پندرہ منٹ میں اس جگہ پہنچ گئے جہاں پر بانسوں کا چھپر تھا   ۔ ایک تھائی عورت وہاں مالکن تھی اس نے ہمیں دیکھا تو کہا کہ تم اس میں نہیں رہ سکو گے ۔ میرا دس سال کا اس کام کا تجربہ ہے ، یہ تو نو عمر اور بیک پیکرز کے لیے ہے، تو کدھر اپنے آپ کو ٹارزن سمجھ رہا ہے۔ کوئی اور جگہ ڈھونڈ۔   اس نے کمال مہربانی سے خود ہی آگے بڑھ کر   بکنگ ڈاٹ کام سے بکنگ کینسل کروائی اورمسافر کو   پورے پیسے واپس کیے ۔ اب ہمارے لیے م...

قبرستان کہانیاں

تحریر: عاطف ملک قبرستان کے باہر لکڑی کے تختے  پر گلاب کی پتیوں کا ڈھیر تھا۔ وہ پتیاں جو مرجھاتے ہوئے پھولوں سے اتاری گئیں، اور ان پتیوں سے زیادہ مرجھائی عورت  لکڑی کے تختے پر بیٹھی ان پتیوں کو فروخت کر رہی تھی۔ وہ لکڑی کا تختہ اور لاشوں کو نہلانے کے تختے کا ماخذ ایک ہی تھا۔  قبریں، کیکر کے درختوں سے گرتے پتے اور زمین پر بکھرے کانٹے، کسی  کم سن کی کچی قبر پر بکھرے سرخ دال کے دانے، گورکن کےغمزدہ کمرے کے باہر بھنگ گھوٹتا مریل جسم، اپنی عمریں ضائع کرتی پکی قبریں اور زمین میں  دھنستی کچی قبریں؛ قبرستان کا منظر اپنی صدا لگاتا ہے۔  قبروں کے درمیان سے بل کھاتے رستے جو کسی اور قبر کے آنے سے بند ہوجاتے، کچی راہیں جو قبروں میں چلتی یک دم رک جاتیں، ایسے ہی جیسے کئی قبر وں کے مکین یک دم چلتے گرے  تھے، کبھی نہ اٹھنے کے لیے۔  قبرستان  کے راستے لوڈو کھیل کے سانپوں کی مانند بے ترتیب ہوتےہیں، اور یہاں تک کا سفر بھی شاید کسی اتفاقیہ کھیل  کا تابع ہے۔ اُس دن ایک کوا اڑتا قبرستان پہنچا اور اس نے کائیں کائیں کے بیچ میں رک کر اتفاقاً کم سن کی قبر پر بکھری سرخ ...

سوال

Image
وہ   دن بھی عجب تھا۔ اس دن دو واقعات پیش آئے۔ دونوں کا ایک دوسرے سے براہ راست تعلق نہ تھا ،مگر   ایک تعلق ضرور تھا۔ لاہور میں گھر کے ساتھ ایک پارک ہے۔ اکثر صبح کے وقت میں اور اہلیہ وہاں   واک کے لیے جاتے ہیں۔ اس دن صبح کے وقت سیر کے لیے نہ جاسکے سو   دوپہر کے وقت جاپہنچے۔ دیکھا کہ پارک میں داخل ہونے والاسلاخ دار دروازہ تالہ بند ہے۔ پارک میں کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ ایک تقریباً دس سال کا بچہ سامنے تھا۔ اُس سے پوچھا کہ میاں پارک کیوں بند ہے؟ کہنے لگا کہ پارک صبح کچھ گھنٹے کھلتا ہے اور اس کے بعد بند کردیا جاتا ہے۔ کھلا پارک ہے مگر زنداں کی مانند کا سلاخ دار دروازہ کبھی کھولا جاتا ہے اور پھر مقفل ہو جاتا ہے کہ   آزادی اور قید دونوں کے احساس ساتھ ساتھ چلیں۔ پوچھا، میاں تم کیسے پارک میں داخل ہوئے؟ کہنے لگا شوق سچا ہو تو راہ نکل ہی آتی ہے۔ مقفل دروازے کے نیچے کے   چوکور چوکٹھے کی جانب اشارہ کیا کہ جب راہ بند ہو تو نیا راہ ڈھونڈا جاتا ہے سو یہ راستہ اپنایا ہے۔     کوئی مسلہ نہیں ہے، ادھر سے تشریف لائیں۔ ہماری ہچکچاہٹ کو بھانپ گیا سو حوصلہ افزائی...