Posts

واٹس ایپ گروپس کے ممبران کی درجہ بندی

تحریر: عاطف ملک ٹیکنالوجی نے کئی رنگ دیے ہیں، چوپال کا متبادل واٹس ایپ گروپس کی شکل میں آیا ہے جہاں مختلف لوگ ارشادات، فرمودات اور خرافات پیش کرتے ہیں۔ خرافات کو پیش کرنے پر کس کو اعتراض ہو سکتا ہے مگر جس محبت سے پیش کرتے ہیں، وہ کوئی ایسی خوشی کی بات بھی تو نہیں۔ شاعر نے کہا تھا کہ "اے محبت تیرے انجام پر رونا آیا" مگر یہاں تو کئی دفعہ آغاز پر ہی رونا آجاتا ہے۔ ایسے ایسے ارشادات اور تحقیقات سننے کو ملتی ہیں کہ  اُن کی عقل کو رووں کہ پیٹوں انہی کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں  نوحہ گر کو میں  ان گروپس میں طلاق یافتہ کامیاب شادی کے گر بتا رہے ہوتے ہیں، ڈیپریشن کے مریض خوش رہنے کے طریقے بتاتے ہیں، جن کی اپنی صحت برگِ لرزیدہ ہے وہ حکمت کے ایسے نسخے بیان کر رہے ہوتے ہیں جن کی حکیم لقمان کو بھی خبر نہ ہوگی۔ کووڈ کی ویکسین سے انسان میں چِپ لگانے کی خبر کا پتہ یہیں سے لگا ہے، مانیے جب سے یہ افلاطونی خبر سنی ہے ہمیں چُپ ہی لگ گئی ہے۔ بل گیٹس کی طلاق کی حکیمی وجوہات سے لے کر وینا ملک کی اسلامی و غیر اسلامی خدمات پورے ثبوتوں کے ساتھ یہاں پیش کی جاتی ہیں۔ بھرپور زندگی گذارنے کے یونائی ...

ایک روداد

Image
عام طور پر میں سٹ ان کیاک میں کشتی رانی کرتا ہوں۔ اس میں آپ کشتی میں ایسے بیٹھتے ہیں کہ ٹانگیں آگے بنے خانے میں سیدھی ہوتی ہیں۔ دو ہفتے قبل میری کیاک دریا میں الٹ گئی اور میں الٹا پانی میں تھا۔ منہہ پانی میں تھا اور ٹانگیں کشتی کے اندر خانے میں تھیں۔ جانیے جیسے واپڈا کے کھمبوں کی تاروں پر کبھی پرندے الٹے لٹکے نظر آتے ہیں کچھ ویسی صورتحال تھی۔ یا سمجھیے جیسے سرکاری سکولوں میں بچوں کو مرغا بناتے ہیں یا بعض سرکاری نوکریوں میں چھوٹے ماتحت مرغے بنے ہوتے ہیں ویسی صورتحال درپیش تھی بلکہ اضافہ تھا کہ منہہ پانی میں تھا۔ استاد نے بتایا تھا کہ اگر کبھی کشتی الٹی تو آپ کو دنیا الٹی نظر نہیں آئے گی، تمہاری آنکھیں بند ہوں گی۔ ہم نے کہا کہ گویا سرکاری نوکری ہوئی کہ کوئی اور دنیا نظر نہیں آتی۔ کہنے لگے تمہاری مثال غلط ہے کہ اس الٹ سے تم جلد از جلد نکلنے کی کوشش کرو گے۔ مزید فرمایا کہ اگر کشتی الٹے تو الٹی لٹکی چمگاڈر کی مانند ہو گے سو اپنے جسم کو اٹھانا اور کشتی سے بغلگیر ہونے کی کوشش کرنا، اس سے تم اپنی ٹانگیں خانے سے نکال پاو گے۔ ہم نے کہا محترم، پانی میں الٹے ہوکر کشتی سے بغلگیری ایسا تو ہم اپنی مح...

کالک

Image
 جین ریٹائرڈ نرس ہے، اور خوب خدمتی ہے۔ آج صبح پارک میں ہم کشتی چلانے والوں کا مل کر ناشتہ بنانے کا پروگرام تھا۔ جین کرسیاں، جگہ ٹھیک کرنے اور ناشتہ بنانے میں مصروف رہی جبکہ میں کشتی چلا کر واپس آیا تو ساتھ مدد کے لیے لگ گیا۔ پارک میں لگے الیکٹرک چولہے پر گول گول پلاسٹک کے سانچے لگا کر چولہے کی سائیڈ پر ایک طرف سے انڈہ مارتا اور اس سانچے میں ڈال دیتا۔ انڈے کے باریک چھلکے کو نکالتے ایک دفعہ ہاتھ بھی گرم چولہے پر جا لگا۔ انڈے نے کہا پتہ لگا خود جلنا پڑتا ہے تب شکل نکلتی ہے۔ انڈے کو پلٹنے کے لیے سانچے اٹھانا پڑتا اور پھر الٹایا جاتا۔ میں نے کہا انڈے کی زردی نظر نہ آئے تو مجھے تو بہت قلق ہوتا ہے۔ زردی سے سورج دیوتا نظر آتا ہے، یہ جو انڈے پلٹے جارہے ہیں ان سے لاہور کی سردیوں کی دھند بلکہ اب سنا ہے کہ سموگ بھی آجاتی ہے، اس کا احساس ہوتا ہے۔ انڈے کو نہ الٹا کہ زردی نظر نہ آئے تو مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ کہنے لگی چل تو کہتا ہے تو ایک انڈہ نہیں پلٹتے۔ پھر کہنے لگی میں تو خدمت پر معمور ہوں تو کدھر سے آگیا۔ میں نے جین سے کہا تو ساری عمر خدمتی رہی ہے سو یہ تیرا مسلہ نہیں ہے، میں ادھر کالک کم کرن...

آپر چونٹی

یہ نظم ایک تجربہ ہے۔ اس میں اردو، انگریزی اور پنجابی کو جوڑا گیا ہے۔   اک صاحبِ فرزانہ نے سب کو تھا افطار پر بلایا کھجور کھلائی، ایم پی کا خطاب سنوایا جگدیش نے پھر اس دیش کا ہم کو بتایا ہارمنی کا اپنا سبق، اپنا سبق ہم کو پڑھایا لیڈراں فیر ایم پی نال فوٹو چھکے باقی رہ گئے بُھکے بیٹھے اونوں پچھیا اے کی اے اونے دسیا اے ای اے We gathered the community There was an opportunity Look at it with immunity   ہن کوئی سانوں صدا کھلے کسے دے گھار اے منڈا جمیا کسے نے ویاہ دا سنیا کھلیا کوئی قرآن دا ختم کرائے   پولے منہ نال پُچھ لینے آں پھا جی، اے آپرچونٹی تے نہیں

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

یہ نظم انٹرنیٹ پر موجود ہے اور اس کے شاعر ساحل صاحب ہیں۔ عاطف ملک نے کچھ اپنے شعر اس نظم کے ساتھ جوڑے ہیں جو کہ نیچے نیلے رنگ میں لکھے گئے ہیں۔ مگر اس شاعری کا سہرا ساحل صاحب کے سر ہی ہے۔ وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا یہ سیٹوں کی تقاطع اور یونین کچھ بتا دو نا یہ قالب اور الجبرا، یہ کیسے لاگ لیتے ہو جمع تفریق اور تقسیم ضربیں کیسے دیتے ہو مجھے بھی اپنی نسبت کا ذرا حساب دے دو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھا دو نا یہاں پہ مستقل کیا ہے؟ تغیر کس کو کہتے ہیں منفی منفی سے یہ مثبت کیسے بنتے ہیں یہ سوالوں کی مساواتیں تم کیسے بناتے ہو سوالوں سے جوابوں کے خزانے چھین لاتے ہو یہ ناطق غیر ناطق سے جدا کر کے دِکھا دو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا اِسے اہلِ ادب نے خشک تر مضمون بولا ہے جو اس سے دل لگا بیٹھا، اُسے مجنون بولا ہے کہا میں نے ریاضی کا بہت دشمن زمانہ ہے ریاضی اِک تخیّل ہے، یہ شاعر کا فسانہ ہے بولی میرے مجنون کوئی عشق کا نعرہ لگادو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا ابھی جاناں بتانے کو جذر مجذور باقی ہیں کئی بلین ستاروں کے جہاں مفرور باقی ہیں...

کیا کاروبار سکول بزنس کو درست پڑھا رہے ہیں ؟

تحقیق و تحریر: عاطف ملک  اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی اور مواصلات کی ترقی نے  کاروبار  کے لیے بے پناہ مواقع دیے ہیں، ٹیکنالوجی کی کئی چھوٹی کمپنیوں نےاپنے قیام کے کچھ عرصے میں ہی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، مثلاً اوبر، واٹس اپ، سکائیپ وغیرہ۔ دوسری جانب یہ ترقی بزنسز کے لیے کئی نئے چیلنیجز بھی لائی ہیں۔ کاروباری دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ٹیکنالوجی میں بڑا نام رکھنے کے باوجود  ان تقاضوں کی صحیح سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے یا وقت پر تبدیلی نہ لانے کے باعث ناکامی کا شکار ہوئی ہیں، مثلاً  کوڈک، نوکیا وغیرہ۔ اس صدی کا کاروبار نئے تقاضوں  سے نبرد آزما ہے۔ دنیا سمٹ کر چھوٹی ہوگئی ہے،  کمپینوں کا مقابلہ اب عالمی سطح پر ہے۔ گاہگ پہلے کی نسبت ہوشیار ہیں، آج خریدار انٹرنیٹ کے ذریعے مصنوعات کے بارے بہت کچھ جان سکتا ہے، وہ مختلف کمپنیوں کی تیار کردہ اشیا کا تقابلی جائزہ کر سکتا ہے۔ خریدار کا مصنوعات سے متعلقہ علم اور توقعات کمپنیوں کو اپنی مصنوعات بہتر کرنے پر کوشاں رکھتی ہیں۔ عالمی منڈی تک آسان رسائی اور مقابلہ، آوٹ سورسنگ، ڈیجیٹل دور،  علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیش...

کہانی کار

Image
At Perth, Sunday 20 September, 2020 یہ کہانی کار دیوانے ہیں، جادوگر ہیں۔ یہ کہانی کار مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف ملکوں سے آئے ہیں اورمختلف مزاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک ساوتھ افریقہ کا نسل پرست دور گذار کر آیا یہودی، جس کی کوئی کہانی جنس کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ جھیل سی آنکھوں والی آئرش جس کی کہانیاں جھیل کہانیاں ہیں کہ اس کا آئر لینڈ میں گھر ایک جھیل کنارے تھا۔ ایک برطانوی جو جادوگرنیوں کی کہانیاں لکھتا ہے کہ کسی طلسم نے اسے جکڑ رکھا ہے۔ اور ایک پاکستانی جس کی کہانیاں سن کر ساتھی سکاٹش عورت کو سکاٹ لینڈ میں اپنے کسی پاکستانی بوائے فرینڈ کی یاد آجاتی ہے کہ پاکستانی کی کہانیاں یادوں کے ہی گرد گھومتی ہیں۔ ایک فرانسیسی النسل جو یونیورسٹی میں مزاہب کا تقابلی جائزہ پڑھ رہی ہے اور اس کی کہانیاں تلاش ذات کا پتہ دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ تیری کہانیاں جانے کیوں مجھے اپنی کہانیاں لگتی ہیں۔ وہ رومی کی چاہنے والی اس کے ساتھ قونیہ میں رقص کرتے درویشوں میں شامل ہونا چاہتی ہے۔ یہ کہانی کار اپنے اپنے دائروں میں رقص کرتے، گھومتے مدہوش ہیں۔ یہ محفلِ مدہوشاں ہے۔ یہ کہانی کار دیوانے ہیں۔...