بوسنیا کا سفر، قسط سوم

 تحریر: عاطف ملک

مسافر ایرپورٹ پہنچا۔محمد  رسل کو خداحافظ کہا، وہ جوان تھا، جدوجہد نتیجے سے قطع نظر  اس کے سامنے کھڑی تھی۔
 مسافر   نے برٹرینڈ رسل نہیں پڑھا تھا مگر اس کا ایک قول کہیں سامنے آیا تھا کہ " کچھ خواہشات کو حاصل نہ کرپانا خوشی کا لازمی حصہ ہے"۔ زندگی میں بعض انتظار خوش اور بعض ملاقاتیں ناخوش کر جاتی ہیں۔خواہشات اور خوشی ایک نہیں، یہ پہچان لمبے سفر کے بعد ہی آتی ہے۔

مسافر تھائی ایر لائن کے کاونٹر پر تھا۔ سامان کم تھا، سامان کم ہو تو سفر آسان رہتا ہے۔

 کاؤنٹر پر موجود خاتون ملنسار اور مددگار تھی۔ مسافر کے سفر کو دیکھا تو کہا کہ یہ لمبا سفر ہے۔ جب اُسے علم ہوا کہ مسافر درس و تدریس کے شعبے سے ہے تو اس کا رویہ مزید مددگار ہوگیا۔ مسافر نے آن لائن چیک ان کیا تھا۔ پہلی فلائیٹ میں تو کئی نشستیں خالی تھیں مگر اگلی بارہ گھنٹے کی فلائیٹ میں  صرف دو سیٹیں نظر آرہی تھیں اور وہ درمیان کی تھیں، ایسے میں باہر نکلنا ہو تو دوسروں کو تکلیف دینا پڑتی ہے۔ مسافر نے مددگار خاتون سے  درخواست کی کہ اگر  اُسے درمیانی راہ کے ساتھ کی نشست مل جائے تو بہتر ہوگا کہ لمبا سفر ہے اور  مسافر کوکسی اور کو اٹھانا نہ پڑے۔ غالب نے کہا تھا کہ بیٹھے ہیں رہ گذر پہ ہم ،غیر ہمیں اٹھائے کیوں ۔ وہ غالب تھے  اور شاید کچھ عرصہ انگریز کی حکمرانی سے پہلے کا دوربھی انہوں نے دیکھا ہوگا۔  اب دورِمغلوبیت ہے سو ہوائی جہاز میں  رہ گذر کے ساتھ بیٹھنے کا فائدہ ہے کہ کسی اور کو اٹھانا نہیں پڑتا، دوسرے آپ کو اٹھائیں تو اٹھائیں۔  خاتون نے فون اٹھایا اور شاید سپروائزر سے بات کی کہ مسافر کی چاہت کی صرف ایک سیٹ خالی تھی۔ چاہت کا  معاملہ اتنا آسان نہیں ہوتا مگر یہ کام آسان نکلا۔ اس خاتون نے دو کاغذ ہاتھ میں تھمائے،اپنے قلم سے ایک کاغذ پر کچھ لکھا اور کہا کہ تیری چاہت اس میں ہے۔ مسافر نے بورڈنگ پاس کو دیکھا توایک نمبر لکھا تھا۔
  
کچھ سفرنامے لکھنے والوں نےا پنی حسرت آمیزی کو مبالغہ آمیزی سےایسے  جوڑا ہے کہ سفرنامہ پڑھنے والوں کو گمان ہوتا ہے کہ مغربی دنیا کے سفر میں ہر موڑ پر کوئی خاتون چشم براہ بلکہ جسم براہ ہے۔ مگر اُس موقع پر مسافر کو مددگار خاتون نے اپنا فون نمبر نہیں دیا تھا بلکہ بورڈنگ پاس پر اگلی سیٹ کا نمبر لکھ دیا تھا   کہ پرنٹ میں وہ اتنا صاف نہ آیا تھا۔

بارش ہورہی تھی اور پرواز تاخیر کا شکار تھی۔ مسافر کو اگلی فلائیٹ کا خیال تھا کہ دونوں پروازوں میں صرف ایک گھنٹے کا درمیانی وقت تھا۔ تھائی ایرلائن کو حلال کھانے کا  لکھوایا تھا سوشروع میں ہی 
ایک ایر ہوسٹس  کاغذ پر نام پڑھتے  ڈھونڈتی پہنچ گئی ۔ پرواز شروع ہوئی تو مسافر کا کھانا سب سے الگ پہلے آن پہنچا۔ یہ خوشگوار تجربہ تھا، ورنہ مسافر کئی ایرپورٹوں پر الگ کیا جاتا رہا ہے، مگر وہاں کسی کھانے کی بجائے نام ، نسب،  ملک،  مذہب کی گفتگو رہتی تھی  بلکہ زیادہ طور پر یہ گفتگو بھی یک طرفہ ہوتی ۔

جہاز کے تھائی عملے میں شامل ایک میزبان کو دیکھا تو مسافر کو تھائی لینڈ میں  اپنے ایک سفر کے درمیان نظر آئے کئی لڑکوں کا خیال آیا۔ کسی اور ملک میں اتنی زنانہ مشابہت لڑکوں میں نہیں ہے جتنی تھائی لینڈ  میں ہے۔ میک اپ  اور دوسرے لوازمات کا بھی پورا استعمال کیا جاتا ہے کہ نازکی لب  کی گلاب کی پنکھڑی کو مات دے۔ اگر میر تقی میر تھائی لینڈ کا چکر لگا لیتے تو  چکرا جاتے اور ان کے شعر وں میں گلاب کی پنکھڑی سے کہیں آگے  پورا   گلستان شامل ہوتا۔
 
جہاز کافی حد تک خالی تھا۔ مسافر نے تین سیٹوں کو جوڑا اور سونے کے لیے لیٹ گیا کہ ایک لمبا سفر آگے تھا۔
 
سوتے جاگتے بنکاک اترے تو اگلی پرواز کا وقت ہوا ہی چاہتا تھا۔مسافر کو علم تھا کہ یہ ڈیڈ لائن ہے سو بھاگا کہ اگلے ٹرمینل اور گیٹ تک پہنچے۔ کسی زمانے میں جیل قیدیوں کو بتا دیا جاتا تھا کہ  قید کی حدود میں یہ  لکیرِ آخر ہے، اگر اسے عبور کیا تو مارے جاؤگے، سو یہ خطِ موت یعنی ڈیڈ لائن کہلایا۔ آج کے دور میں دوڑ اور ڈیڈ لائن ساتھ ہیں۔جدید زندگی کے قیدی مختلف ڈیڈ لائنز میں محصور ایک جانب سے دوسری جانب بھاگتے پھرتے ہیں۔

مسافر وقت پر اگلے جہاز پر پہنچ گیا ۔

بنکاک سے پیرس کی پرواز بارہ گھنٹے کی ہے۔مسافر کی نشست راہ گذر کے ساتھ تھی اور اس کے ساتھ ایک جوڑا  بیٹھا تھا۔ خاتون کھڑکی کے ساتھ کی سیٹ پر اور اس کے ساتھ کا اُول جلول مرد ہم دونوں کے درمیان بیٹھا تھا۔اُس میں کچھ بے ترتیبی محسوس ہوتی تھی۔ مسافر نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔ آنکھوں پر پٹی بندھی ہو تو کوئی روشنی دکھائی نہیں دیتی۔
 
سفر کے درمیان ساتھ کا ہمراہی دو تین دفعہ مسافر پر سے  جمپ لگا کر نکلا اور واپس آیا۔ پہلی دفعہ جب اُس نے جمپ لگائی تو مسافر کو خوشی ہوئی کہ اس کے بارے میں بے ترتیبی کا احساس درست تھا۔ نیز یہ کہ بےترتیبی بری چیز بھی نہیں، کسی دوسرے کا خیال نہ کرنا برا ہوتاہے۔ خاتون تمام سفر خاموش ہی رہی۔
 
چوتھی قسط درج ذیل لنک پر پڑھی جاسکتی ہے۔ 
https://aatifmalikk.blogspot.com/2026/10/blog-post_13.html 
 
Copyright © All Rights Reserved
No portion of this writing may be reproduced in any form without permission from the author. For permissions contact:
aatif.malikk@gmail.com 
#AatifMalik, #UrduAdab, #Urdu    

Comments

Popular posts from this blog

ایک سرکاری سکول کے عظیم استاد کی یاد میں

چین کا سفر، قسط اول

چین کا سفر، آٹھویں قسط