Posts

آپر چونٹی

یہ نظم ایک تجربہ ہے۔ اس میں اردو، انگریزی اور پنجابی کو جوڑا گیا ہے۔   اک صاحبِ فرزانہ نے سب کو تھا افطار پر بلایا کھجور کھلائی، ایم پی کا خطاب سنوایا جگدیش نے پھر اس دیش کا ہم کو بتایا ہارمنی کا اپنا سبق، اپنا سبق ہم کو پڑھایا لیڈراں فیر ایم پی نال فوٹو چھکے باقی رہ گئے بُھکے بیٹھے اونوں پچھیا اے کی اے اونے دسیا اے ای اے We gathered the community There was an opportunity Look at it with immunity   ہن کوئی سانوں صدا کھلے کسے دے گھار اے منڈا جمیا کسے نے ویاہ دا سنیا کھلیا کوئی قرآن دا ختم کرائے   پولے منہ نال پُچھ لینے آں پھا جی، اے آپرچونٹی تے نہیں

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا

یہ نظم انٹرنیٹ پر موجود ہے اور اس کے شاعر ساحل صاحب ہیں۔ عاطف ملک نے کچھ اپنے شعر اس نظم کے ساتھ جوڑے ہیں جو کہ نیچے نیلے رنگ میں لکھے گئے ہیں۔ مگر اس شاعری کا سہرا ساحل صاحب کے سر ہی ہے۔ وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا یہ سیٹوں کی تقاطع اور یونین کچھ بتا دو نا یہ قالب اور الجبرا، یہ کیسے لاگ لیتے ہو جمع تفریق اور تقسیم ضربیں کیسے دیتے ہو مجھے بھی اپنی نسبت کا ذرا حساب دے دو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھا دو نا یہاں پہ مستقل کیا ہے؟ تغیر کس کو کہتے ہیں منفی منفی سے یہ مثبت کیسے بنتے ہیں یہ سوالوں کی مساواتیں تم کیسے بناتے ہو سوالوں سے جوابوں کے خزانے چھین لاتے ہو یہ ناطق غیر ناطق سے جدا کر کے دِکھا دو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا اِسے اہلِ ادب نے خشک تر مضمون بولا ہے جو اس سے دل لگا بیٹھا، اُسے مجنون بولا ہے کہا میں نے ریاضی کا بہت دشمن زمانہ ہے ریاضی اِک تخیّل ہے، یہ شاعر کا فسانہ ہے بولی میرے مجنون کوئی عشق کا نعرہ لگادو نا وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا ابھی جاناں بتانے کو جذر مجذور باقی ہیں کئی بلین ستاروں کے جہاں مفرور باقی ہیں...

کیا کاروبار سکول بزنس کو درست پڑھا رہے ہیں ؟

تحقیق و تحریر: عاطف ملک  اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی اور مواصلات کی ترقی نے  کاروبار  کے لیے بے پناہ مواقع دیے ہیں، ٹیکنالوجی کی کئی چھوٹی کمپنیوں نےاپنے قیام کے کچھ عرصے میں ہی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، مثلاً اوبر، واٹس اپ، سکائیپ وغیرہ۔ دوسری جانب یہ ترقی بزنسز کے لیے کئی نئے چیلنیجز بھی لائی ہیں۔ کاروباری دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ٹیکنالوجی میں بڑا نام رکھنے کے باوجود  ان تقاضوں کی صحیح سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے یا وقت پر تبدیلی نہ لانے کے باعث ناکامی کا شکار ہوئی ہیں، مثلاً  کوڈک، نوکیا وغیرہ۔ اس صدی کا کاروبار نئے تقاضوں  سے نبرد آزما ہے۔ دنیا سمٹ کر چھوٹی ہوگئی ہے،  کمپینوں کا مقابلہ اب عالمی سطح پر ہے۔ گاہگ پہلے کی نسبت ہوشیار ہیں، آج خریدار انٹرنیٹ کے ذریعے مصنوعات کے بارے بہت کچھ جان سکتا ہے، وہ مختلف کمپنیوں کی تیار کردہ اشیا کا تقابلی جائزہ کر سکتا ہے۔ خریدار کا مصنوعات سے متعلقہ علم اور توقعات کمپنیوں کو اپنی مصنوعات بہتر کرنے پر کوشاں رکھتی ہیں۔ عالمی منڈی تک آسان رسائی اور مقابلہ، آوٹ سورسنگ، ڈیجیٹل دور،  علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیش...

کہانی کار

Image
At Perth, Sunday 20 September, 2020 یہ کہانی کار دیوانے ہیں، جادوگر ہیں۔ یہ کہانی کار مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف ملکوں سے آئے ہیں اورمختلف مزاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک ساوتھ افریقہ کا نسل پرست دور گذار کر آیا یہودی، جس کی کوئی کہانی جنس کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ جھیل سی آنکھوں والی آئرش جس کی کہانیاں جھیل کہانیاں ہیں کہ اس کا آئر لینڈ میں گھر ایک جھیل کنارے تھا۔ ایک برطانوی جو جادوگرنیوں کی کہانیاں لکھتا ہے کہ کسی طلسم نے اسے جکڑ رکھا ہے۔ اور ایک پاکستانی جس کی کہانیاں سن کر ساتھی سکاٹش عورت کو سکاٹ لینڈ میں اپنے کسی پاکستانی بوائے فرینڈ کی یاد آجاتی ہے کہ پاکستانی کی کہانیاں یادوں کے ہی گرد گھومتی ہیں۔ ایک فرانسیسی النسل جو یونیورسٹی میں مزاہب کا تقابلی جائزہ پڑھ رہی ہے اور اس کی کہانیاں تلاش ذات کا پتہ دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ تیری کہانیاں جانے کیوں مجھے اپنی کہانیاں لگتی ہیں۔ وہ رومی کی چاہنے والی اس کے ساتھ قونیہ میں رقص کرتے درویشوں میں شامل ہونا چاہتی ہے۔ یہ کہانی کار اپنے اپنے دائروں میں رقص کرتے، گھومتے مدہوش ہیں۔ یہ محفلِ مدہوشاں ہے۔ یہ کہانی کار دیوانے ہیں۔...

The slingshot whirls

Image
  English Translation of an Urdu poem of Aatif Malik The actual Urdu poem can be read at following link: http://aatifmalikk.blogspot.com/2018/05/blog-post_14.html The slingshot whirls By Aatif Malik The wheelchair gets bogged down in the ground Like the soul restrained by the body’s frame Like a prisoner caged behind the bars It’s me But my spirit is free Like the slingshot ---- that whirls That whirls raising itself over the head Free, free like air ---- unrestrained, unbridled, limitless It’s me I will not flee My legs are already freed from my body I will not flee I will fight I will fight till I will be free It’s me Whether I live or not, The time will change, You will bury me, But my spirit will wander, wander here, among the destroyed Olive trees, among the bombed houses, among the burnt fields, My spirit will wander here, Like the slingshot ---- that whirls twirling over the head Free, free like air ----unrestrained, unbridled, limitless It would be me. Copyright © All Right...

وارنٹ آفیسر مسکین اور گندے انڈے

تحریر : عاطف ملک اگر آپ بیوروکریٹ یا ریٹائڑد فوجی کے پاس بیٹھیں تو آپ کو علم ہوگا کہ وہ تو ماضی میں جی رہا ہے۔  اس کے پاس آپ کو سنانے کے لیے اپنی نوکری کی کہانیاں ہوتی ہیں؛ وہ کہانیاں سناتا ہے، بے دریغ، بے بریک، بے حساب، بے جواب، بے خواب۔ آپ کا سننا ضروری نہیں، ہوں ہاں کرنا بھی ضروری نہیں، آنکھ ملانے کی ضرورت بھی نہیں، کان کھجائیے، بے زاری کا اظہار کریں، ماتھے کو رگڑیے، کچھ کرلیں ماضی میں سانس لیتا حال سے بے خبر ہی رہتا ہے۔  کہانیاں دواقسام کی ہوتی ہیں۔ اگر کہانی سنانے والے کاعہدہ چھوٹا رہا ہو تو وہ بڑے عہدیداروں سے کہانی شروع کر کےاپنے تک لائے گا۔ جیسے جیسے کہانی سنانے والے کا عہدہ بڑا ہوتا چلا جاتا ہے، اس کی کہانیاں تیزی سے اپنے جانب آتی ہیں، اور پھر وہ مقام آتا ہے کہ کہانی سنانے والا اپنے ہی گرد والہانہ رقص کر رہا ہوتا ہے، دیوانہ وار ناچتا ہے۔ یہ چھب دکھاتی طوائف نہیں ہوتی بلکہ وقت کا مارا، حقیقت سے فرار مانگتا ناچار نچیا ہوتا ہے۔ ایسا ناچنے والا جو اپنا تماشبین بھی خود ہی ہے۔ یہ زندگی کا رقص نہیں بلکہ حسرتوں کا ناچ  ہے۔ مور کا سنا ہے کہ پنکھ پھیلائے ناچتے اپنے پیروں ک...

ہاتھ دھونا

عجب ایک عادت ہے، پتہ نہیں کب سےسرشت میں شامل ہے؟ جب سے ہوش سنبھالا ہے یہ طریقہ زندگی کا حصہ بنا ہوا ہے۔  جب بھی ہاتھ دھوتا ہوں، وقت اور مکاں سے بلا لحاظ صابن ہاتھ پر ملتا جاتا ہوں اور سورہ فاتحہ پڑھتا جاتا ہوں۔ سورت ختم ہوتی ہے تو ہاتھ کا دھونا بھی ختم ہوتا ہے۔ کبھی یاد نہیں کرنا پڑا خود بخود نہ جانے کہاں یہ سورت کا پڑھنا آجا تا ہے۔ کبھی اس کی شعوری کوشش نہیں کی کہ عقل کے پیمانے پر تولنے کی صلاحیت سے قبل سکھائی گئی چیزوں کے نقوش بڑے گہرے ہوتے ہیں۔  وائرس کرونا آیا تو ہاتھ دھونے کے طریقے بتائے جانے لگے کہ ہاتھ ایسے دھوئیں اور پندرہ سے بیس سیکنڈ تک آپس میں ملیں۔  عقدہ حل ہوگیا کہ ایک کم سن کو سیکنڈوں کے پیمانوں کے علم سے بھی قبل ہاتھ دھونے کے دورانیے کا پابند کردیا گیا تھا، اور ہاتھ صاف کرتے دعا بھی کہ کرم شدہ لوگوں کی پیروی مل جائے۔ ماں سے زیادہ کس کو بچے کی جسمانی اور روحانی ستھرائی کا خیال ہوگا۔ اگلی دفعہ آپ ہاتھ دھوئیں تو سورہ فاتحہ اپنی ماں اور میری ماں کے لیے پڑھ لیجئے گا کہ صفائی اوراولاد کی تربیت ماوں کے دم سے ہوتی ہے۔