مسافر سفر میں ہے
تحریر: عاطف ملک
یہ قصہ تھائی لینڈ کے شہر شیانگ مائی کے بارے میں ہے ، جہاں کچھ عرصہ قبل جانے کا اتفاق ہوا ۔ بکنگ ڈاٹ کام سے ایک بانسوں کا ہٹ بک کروا لیا تھا ۔ تصویروں میں دیکھا کہ زمین سے اوپر بانسوں کا چھپر ہے جس کے ساتھ ہی ایک ٹوائلٹ تھا۔ زندگی میں کچھ وقت خیموں میں گذرا تھا، سو اچھا لگا کہ پرانی یادیں تازہ کرلیں۔ ایئر کنڈیشن نہیں تھا بلکہ پیڈسٹل پنکھا دھرا تھا۔ مساف ایڈونچر چاہتے تھا سو اس لیے بانسی چھپر کو بک کر لیا ۔
شیانگ مائی یئرپورٹ پر اترے ۔ ایئرپورٹ شہر کے قریب ہے ۔ ٹیکسی لی اور پندرہ منٹ میں اس جگہ پہنچ گئے جہاں پر بانسوں کا چھپر تھا ۔ ایک تھائی عورت وہاں مالکن تھی اس نے ہمیں دیکھا تو کہا کہ تم اس میں نہیں رہ سکو گے ۔ میرا دس سال کا اس کام کا تجربہ ہے ، یہ تو نو عمر اور بیک پیکرز کے لیے ہے، تو کدھر اپنے آپ کو ٹارزن سمجھ رہا ہے۔ کوئی اور جگہ ڈھونڈ۔ اس نے کمال مہربانی سے خود ہی آگے بڑھ کر بکنگ ڈاٹ کام سے بکنگ کینسل کروائی اورمسافر کو پورے پیسے واپس کیے ۔
اب ہمارے لیے مسئلہ تھا کہ رہائش کے لیے کمرہ ڈھونڈیں ۔دوپہر تھی اور ہم نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ خاتون سے حلال کھانے کا پوچھا ، تو کہنے لگی حلال کھانے کا تو علم نہیں مگر آگے دو گلیوں بعد ایک سبزیوں کا ہوٹل ہے ۔ مسافر نےاسے کہا کہ وہ کھانا بھی کھاآتا ہے اورکوئی ہوٹل بھی رہائش کے لیے بھی دیکھ لیتا ہے۔
سو حلال کھانے کی تلاش شروع کی، گوگل نقشے میں حلال کھانا لکھا تو وہ قریب ایک جگہ کا بتانے لگا۔ دس منٹ چل کر وہاں پہنچے تو دیکھا تھائی کھانا ہے ۔ دکاندارنی سے پوچھا ، کیا یہ حلال ہے؟ تو وہ بولی چکن ہے۔ چکن حلال ذبح نہ ہو تو اس کے نزدیک بلکہ کچھ کے نزدیک بسم اللہ پڑھ کر کھا لیں ، مگر یہ ہماری بسم اللہ پر پورا نہ اترتا تھا سو ہم دوبارہ حلال کی تلاش میں نکل پڑے۔ چلتے چلتے بیس منٹ ہوگئے۔ سامنے ایک سکول تھا جہاں بچوں کی چھٹی ہو گئی تھی ، سو خوب رش تھا ۔ گوگل نقشے نے ایک راہ منزل کو جاتی اس سکول کے ساتھ دکھائی ، سو مسافر اُدھر کو ہولیا۔ ایک کھوکھا اکیلے شجر کی مانند زمین پر ہویدہ تھا ۔ شاید تھائی سوپ کی دکان تھی۔ ایک لڑکی اپنے موبائل پر عجائب عالم دیکھ رہی تھی جبکہ مسافر بھوک، تھکن ، حبس سب کے اثر میں تلاش خوراک میں تھا ۔ اُس سے پوچھا، تو کہنے لگی تیری تلاش شاید تلاشِ حق نہیں کہ تو اِدھر آن پہنچا ہے ، اِدھر تو سور کے قتلے ملتے ہیں ۔ مسافر نے اُسے گوگل نقشہ پیش کیا جس میں حلال کھانے کی منزل تھائی زبان میں لکھی تھی ۔کہنے لگی، یہاں سے دائیں ہو اور تھوڑا خم کھاتی راہ پر نکل کہ تیرے لیے یہی صراط مستقیم ہے ۔مسافر دوبارہ قدم بہ قدم چل پڑا ۔ را ہ گھومتی جاتی تھی اور دور ایک ٹین کا ڈھانچہ کھڑا تھا ۔ کچھ زنگ آلود شیٹیں لگا کر ڈھانچہ کھڑا کیا گیا تھا ۔مسافر کی منزل یہی تھی ۔عطا جہاں سے ہو وہاں عمارت کو نہیں دیکھا جاتا ، حسن بھی بے معنی ٹھہرتا ہے ، غرض مند اور عرض مند کو عطا سے مطلب ہوتا ہے۔
مسافر پیاسا تو نہ تھا مگر بھوکا ضرور تھا ، سو کنویں کی جگہ اس ٹین کے ڈھانچے پر پہنچا ۔ دیکھاکہ باہر پلاسٹک کی کرسیاں میزوں پر سجدہ ریز ہیں۔ ڈھانچے کے سامنے ایک لوہے کی شیٹ نے کاؤنٹر کو بند کر رکھا تھا ۔ گوگل نقشہ کہتا تھا کہ یہ دکان رات دس بجے تک کھلی ہوگی ۔آنکھ دیکھتی تھی کہ جگہ بند ہے اور دل جانتا تھا کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ۔ مسافر نے اپنے اندر جھانکا ، پتہ لگا کہ حقیقت جاننے کے لیے سفر ضروری ہے ۔ کئی راہ بتانے والوں کا بیان گمان ہے ،بازی گروں نے بات کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہے، دم کرنے والوں کے اعتماد سے کئی دم کروانے والے اعتماد کے اس درجے تک پہنچ جاتے ہیں کہ خود ہی شفا پا جاتے ہیں اور پھر داستان گوؤں کی صف میں جگہ لیتے ہیں۔
مسافر نے میز پر سے ایک سجدہ ریز کرسی کو اٹھایا اور چاروں ٹانگوں پر کھڑا کر دیا ۔ اس قیام کرتی کرسی پر اب مسافر بھی قیام پذیر ہوا۔ اس سفر نے مسافر کو یہ پیغام باور کرا دیا تھا کہ زندگی میں حلال آسان نہیں ہے۔ مسافر نے رہائش کے لیے ہوٹلوں کی تلاش کو ترک کیا اور اُسی کرسی پر بیٹھے ایر بی این بی کی ویب سائٹ کو کھولا اور اب تلاش کسی گھر کے کمرے کی تھی کہ جہاں باورچی خانہ بھی ہو کہ ہ حلال کے لیے خود کام کرنا پڑتا ہے۔ مسافر تلاش کرتا تھا اور عجب منظر سامنے آتے تھے۔
جو سامنے آتا تھا اس کو مزید دیکھنا بھالنا پڑتا تھا کیونکہ کہیں مائیکرو ویو اوون باورچی خانے کا مترادف ٹھہرا تھا، کہیں ہوٹل فہرست میں صدائے عام دیتا تھا مگر باور چی خانے کی بابت خاموشی ہی تھی۔ آئیے آئیے کی صدا ہر جانب سے آتی تھی مگر مسافر کی ضرورت کا کہیں ذکر نہ تھا۔ یہ پتہ نہ لگتا تھا کہ باورچی خانہ ہے کہ نہیں ہے۔ مسافر نے سالہہ سال پڑھایا ، ایسے طالب علموں سے اکثر واسطہ پڑا جن سے کوئی بھی سوال پوچھا جائے وہ بے تکان وہی جواب دیتے ہیں جو جواب انہیں آتا ہے ، چاہے جواب کی سوال سے نسبت دور کی بھی نہیں ہو۔ ایر بی این بی کہ جوابوں میں کمرے کی نسبت ضرور تھی مگر باورچی خانہ جواب میں نہ تھا ۔ مسافر کی بنیادی ضرورت کا ذکر ایر بی این بی کے جواب میں ندارد تھا۔
ایسے میں بارش شروع ہو گئی۔ سامنے ایک ورکشاپ تھی جس میں کئی پرانی گاڑیاں زنگ خوردہ اپنا وقت پورا کر رہی تھیں ۔ مسافر نے اپنی حیات پر نگاہ ڈالی ،کہیں زنگ تھا ، کہیں غلطیاں ، کہیں زخم نظر آئے ۔کچھ پر کھرانڈآگئی تھی ، کچھ نشان چھوڑ گئے تھے، کچھ اب بے نشان تھے ۔ بارش کی رفتار بڑھ گئی تھی، خراب گاڑیوں پر گرتے قطرے جلترنگ بجانے لگے ، مسافر کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی۔ مسافر منظر سے زندگی کا سبق کشید کر رہا تھا ، بھوک کچھ دیر کے لیے جلترنگ میں کھو گئی تھی۔
ایسے میں ایک کمرہ نگاہ ِانتخاب میں آیا ۔ عجب کمرہ تھا زندگی کی مانند کچھ سمجھ میں آتا تھا ، کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا ۔ باورچی خانے کا ذکر تو تھا مگر تصویر نہ تھی ۔ باتھ روم کے متعلق لکھا تھا کہ شیئر نہ ہوگا ، مگر کہاں ہوگا یہ نہ بتایا تھا۔ ایئر بی این بی کی ایپلیکیشن سے مالک کو پیغام بھیجا کہ کچھ تو بتا ۔ وہ بتانے کی بجائے پوچھنے لگا کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔ علم یہ ہوا کہ باتھ روم کمرے کے باہر ہے ، اور باورچی خانہ نہیں بلکہ ایک میز پر انڈکشن چولہا اور مائیکرو ویو اون رکھ کر اسے باورچی خانہ سمجھا گیا ہے ۔مسافر کے پلے نصیحتوں کی پوٹلی میں ایک نصیحت گزارا کرنے کی عادت ڈالنے کی بھی تھی ، سو مسافر نے کمرے کو ہاں لکھ بھیجی ۔ بارش کی رفتار میں بھی دفعتاًکمی ہو گئی تھی۔
اب واپسی کا سفر شروع تھا کہ سامان بانس والے چھپر سے اٹھانا تھا ۔مسافر جن راستوں سے چل کر آیاتھا انہیں پر واپس ہوا۔ بعض مسافروں کو راستے بھی صدادیتے ہیں ۔ خیر گوگل نقشہ لگا ہو تو ایک آوازِ خاتون رہنمائی کرتی ہے ۔ وقت ایسا بدلا ہے کہ مسافر نے بڑے بڑےجغادری مردوں کو اس رہنمائی پر رکتے چلتے دیکھا ہے۔
واپس بانسوں والے چھپر پہنچے، میزبان نہ تھی مگر دروازہ باہر سے ہاتھ ڈال کر کھولا جا سکتا تھا ۔ موبائل پر خاتون کو پیغام بھیجا کہ ہم جاتے ہیں ۔ ہم نے تو اپنے آپ کو ٹارزن سمجھا تھا مگر تیری نگاہ نے اس قابل نہ جانا ، تو تیری دنیا سے دور جاتے ہیں بلکہ ہو کے مجبور جاتے ہیں کہ تو حلال کھانا بھی نہیں دیتی ۔ موبائل کے ذریعے ٹیکسی منگوائی ۔ شیانگ مائی کے پرانے شہر کی گلیاں سونی نہ تھیں بلکہ سوہنی تھی ۔ سبزہ ہر گھر میں اپنی ایسی بہار دکھا رہا تھا کہ دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔ اپنے دیس میں تو سبزہ صرف جھنڈے پر ہی رہ گیا ہے ۔
اتنی دیر میں ٹیکسی آن پہنچی ۔ دیکھا کہ خاتون ڈرائیور ہے ، اپنا سامان خود اٹھایا اور گاڑی میں دھرا اورنئی منزل کو عازم ِسفر ہوئے۔ موبائل ایپلیکیشن میں منزل کا پتہ دیا تھا مگر سفر اپنی پریشانی ساتھ دیتا ہے۔ شہر میں چلتی ٹرین میں ہوں تو ہر سٹیشن کے نام کو دیکھنا ، بس میں ہوں تو ساتھ کے مسافروں میں کبھی اِس سے بات کرنی کبھی اُس سے بات کرنی کہ سٹاپ نہ نکل جائے ،۔ سفر پر نکلیں تو سامان کے ساتھ بے چینی بندھی ہوتی ہے۔ مسافروں سے لوگ دعا کی درخواست اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ انہیں بھی علم ہوتا ہے کہ بے چینی ہو تو ہی دعا قبول ہوتی ہے۔
مسافر نے گوگل نقشے پر منزل کا پتہ ڈال رکھا تھا اور رہنما خاتون کی آواز بند کر کے راہ دیکھتا تھا ۔ راہ خاموشی سے بتا ئی جارہی ہو، یہ قسمت والوں کو عطا ہوتی ہے ۔ دیکھا کہ خاتون ڈرائیور کہیں اور لے جا رہی ہے ۔ اب دو خواتین کا مقابلہ ٹھہرا ، ایک گوگل والی اور ایک جو ڈرائیور تھی ۔ کچھ دیر قبل ٹارزن ایک دوسری خاتون سے ہارا تھا ، سو ڈرائیور کو روکا کہ محترمہ بے یار و مددگار کو کہاں لے جاتی ہیں ۔ اب مسئلہ یہ درپیش تھا کہ زبانِ ڈرائیور تھائی و من تھائی نمی دانم ۔ مسافر اُس سے کہتا تھا کہ محترمہ گاڑی روکیں ، مگر وہ گاڑی نہ روکتی تھی۔ علم ہوا کہ وہ عورت جس کے پاس کنٹرول ہو، اسے روکنا آسان نہیں ۔ سو گوگل نقشے والی کو اُس کے مقابل کیا کہ وہ مسافر کی بات نہ سنتی تھی۔ سو اس دورِ فیمنزم میں بالآخر ایک عورت کی طفیل دوسری عورت نے بات مانی اور گاڑی کو ایک جانب روک دیا۔
اب اگلا مرحلہ درپیش تھا کہ بقول منیر نیازی
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
وہ کہتی تھی کہ اگر تو خاتون گوگل کو رہنما مانتا ہے تو اس کے پیسے بھی مجھے دے ۔ مسافر کہتا تھا کہ منزل کا پتہ تو دونوں میں ایک ہی ڈالا تھا تو کدھر ہمیں لے چلی ۔ ابھی بحث شروع ہوئی تھی کہ مسافر کو خیال آیا کہ مسافری میں لٹنا تو صدیوں کی روایت ہے۔ سرزمین ِحجاز میں حج کے قافلے لٹتے رہے ہیں اور تو ویسے بھی تھائی لینڈ میں ہے۔ اطمینان ہو گیا ۔ علم ہوا جب لٹنے کو تیار ہو جائیں تو تکلیف کم ہوتی ہے۔ منزل گو ابھی دور تھی مگر مسافر نے اس ٹیکسی میں ہی گیان کی کئی منزلیں طے کر لیں تھیں۔


Comments
Post a Comment