Posts

ہاتھ دھونا

عجب ایک عادت ہے، پتہ نہیں کب سےسرشت میں شامل ہے؟ جب سے ہوش سنبھالا ہے یہ طریقہ زندگی کا حصہ بنا ہوا ہے۔  جب بھی ہاتھ دھوتا ہوں، وقت اور مکاں سے بلا لحاظ صابن ہاتھ پر ملتا جاتا ہوں اور سورہ فاتحہ پڑھتا جاتا ہوں۔ سورت ختم ہوتی ہے تو ہاتھ کا دھونا بھی ختم ہوتا ہے۔ کبھی یاد نہیں کرنا پڑا خود بخود نہ جانے کہاں یہ سورت کا پڑھنا آجا تا ہے۔ کبھی اس کی شعوری کوشش نہیں کی کہ عقل کے پیمانے پر تولنے کی صلاحیت سے قبل سکھائی گئی چیزوں کے نقوش بڑے گہرے ہوتے ہیں۔  وائرس کرونا آیا تو ہاتھ دھونے کے طریقے بتائے جانے لگے کہ ہاتھ ایسے دھوئیں اور پندرہ سے بیس سیکنڈ تک آپس میں ملیں۔  عقدہ حل ہوگیا کہ ایک کم سن کو سیکنڈوں کے پیمانوں کے علم سے بھی قبل ہاتھ دھونے کے دورانیے کا پابند کردیا گیا تھا، اور ہاتھ صاف کرتے دعا بھی کہ کرم شدہ لوگوں کی پیروی مل جائے۔ ماں سے زیادہ کس کو بچے کی جسمانی اور روحانی ستھرائی کا خیال ہوگا۔ اگلی دفعہ آپ ہاتھ دھوئیں تو سورہ فاتحہ اپنی ماں اور میری ماں کے لیے پڑھ لیجئے گا کہ صفائی اوراولاد کی تربیت ماوں کے دم سے ہوتی ہے۔  

پانچ مصرعوں کی ایک نظم

Image
 زندگی کی بہتی ندی، نِت اطوار کبھی ساکت، کبھی تیز رفتار کبھی گدلی، کبھی صاف نتھار بہتا پانی، شجر، وقت، اسرار سائیں اُچے دے عکس ہزار شاعر : عاطف ملک x

غلیل گھومتی ہے، کلام شاعر بزبانِ شاعر

Image
 

سچ

شاعر : عاطف ملک جو ہم کہیں وہی ہے سچ جو ہم لکھیں وہی ہے سچ جو ہماری دستاویز ہے، وہی ہے سچ جس پہ ہماری مہر ہے، وہی ہے سچ ہمیں یہاں کے ہیں معتبر ہمیں یہاں کی شان ہیں  تمہیں ہماری کیا خبر کیا مان ہے، کیا آن ہے تمہیں گر ہے کچھ اور دکھا تم نے گر ہے کچھ اورکہا  تم پھر گہنگار ہو  عدو کےتم یار ہو تمہارا ہم کریں گے کچھ مگر تم یہ جان لو جھوٹ ہے سقوط ارض جھوٹ ہے تاریک رات جھوٹ ہے درماندگی جھوٹ ہے  ٹپکتی رال اور  سچ نہیں فرقوں میں بٹی بحث سچ نہیں فقیہِ غرض کا بول سچ نہیں سیٹھ کا سیل کا بورڈ سچ کٹی گھاس کی مہکار ہے سچ ابھرتے سورج کی ہے روشنی سچ کوری مٹی پہ بارش کی باس ہے سچ ماں کی گود میں ہمکتے بچے کی ہنسی سچ حسین کی پیاس ہے تم نے جو کہا  میں نے ہے سنا میں مسافرِ آخر شب سامانِ جھوٹ نہ اٹھاوں گا اس حیاتِ اُلجھ سے بے ریا ہی جاونگا  

محبت کی ایک نظم، شاعر: امجد اسلام امجد، پیشکش: عاطف ملک

Image
  محبت کی ایک نظم اگر کبھی میری یاد آئے  تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں  کسی ستارے کو دیکھ لینا  اگر وہ نخل فلک سے اڑ کر  تمہارے قدموں میں آ گرے  تو یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کا  اگر نہ آئے  مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے  کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو  تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے  وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے  اگر کبھی میری یاد آئے  گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا  میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا  مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا  میں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گا  اگر ستاروں میں، اوس قطروں میں، خوشبوؤں میں نہ پاؤ مجھ کو  تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا، میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا  کہیں پہ روشن چراغ دیکھو  تو جان لینا کہ ہر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ہوں  تم اپنی ہاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا  میں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا  کسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہ  رک کے تم کو صدائیں دوں گا  سمندروں کے سفر پہ نکلو  تو اس جزیرے...

ْقصہِ دو مسافراں

تحریر: عاطف ملک پہلا مسافر: میں نے بیرون ممالک کئی یونیورسٹیوں میں پڑھایا ہے اور جن پاکستانی طلبا  سے مجھے واسطہ پڑا ہے، انہیں میں نے محنتی اور ذہین پایا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیاں اتنا ٹیلنٹ ہونے کے باوجود پیچھے ہیں؟ دوسرا مسافر: اس کی کئی وجوہات ہیں؛ فنڈز کی کمی، فرسودہ کورسز، پرانا نظام جو طلبا کے صلاحیتوں کو نکھارنے کی بجائے دباتا ہے، غیرمعیاری اساتذہ، پرائمری اور ہائی سکول کی رواجی تعلیم وغیرہ  وغیرہ مگر شاید سب سے بڑی وجہ ہے کہ یونیورسٹی کے انتظامی امور پر سفارشی لوگوں کی تعیناتی جن میں تعلیمی سمجھ  بوجھ کی کمی ہے۔ ان افراد کا بنیادی کام دوسرے تعلیمی مسائل کو حل کرنا اور نظام میں ترقی لانا ہے مگر بدقسمتی سے  وہ خود سب سے بڑا مسلہ ہیں۔ پہلا مسافر: یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ دوسرا مسافر:  میں تمہیں اس کی ایک زندہ وجاوید مثال سناتا ہوں۔ ہوائی یونیورسٹی قائم ہوئی تو وہاں کا پہلا وائس چانسلر ایسے شخص کو لگایا گیا جس کا یونیورسٹی سےدور کا بھی تعلق نہ رہا تھا، مگر لگانے والوں نے اسے یونیورسٹی نہیں بلکہ ایر سے واسطہ رکھنے پر لگایا تھا۔ اس کی  بڑ...

براسطہ جہادِ کشمیر سب سے پہلے ہم

تحریر : عاطف ملک آئیے مل کر پڑھتے ہیں درودِ پاک، اللھم صلی اللہ"، اُس کے سامنے بیٹھے شخص نے کہا۔ وہ ہنس پڑا۔ اس کے ذہن میں سوچ آئی کہ یہ سامنے بیٹھا شخص مجھے کتنا بڑا بیوقوف سمجھتا ہے۔ وہ ہنس پڑا یہ خیال کیے بغیر کہ وہ کس صورتحال میں ہے۔ یہ ایک مسکراہٹ تھی، اُس کی کوشش تھی کہ یہ مسکراہٹ سامنے والے کو نظر نہ آئے، مگر  صورتحال اتنی عجیب تھی کہ وہ مسکراہٹ چھپا نہ سکا۔ یہ مسکراہٹ اکیلی نہ ابھری تھی، بلکہ اُس کے دل میں اس سامنے بیٹھےشخص کے لیے گالی بھی ابھر کر آئی تھی، بے ساختہ، منہ بھر آتی؛ بے غیرت بلکہ اس سے بھی آگے کی گالی بلکہ گالیاں، شدید نفرت کے ساتھ بھری گالیاں، جو اُس کا دل چاہتا تھا کہ سامنے والے کے منہ پر دے  مارے، متواتر، مشین گن کے برسٹ کی مانند، مگر وہ چپ رہا۔ وہ گالیاں بکنے والا شخص نہ تھا، گالیاں تو اُس نے اس وقت بھی نہ دیں تھیں جب وہ کیڈٹ کالج میں پڑھ رہا تھا۔ وہ وقت جب اُس کے آس پاس والے بات بے بات پر گالیاں دیتے تھے، انگریزی میں اور اردو میں گالیاں، صبح شام گالیاں، وجہ بے وجہ گالیاں، کسی بدیسی تربیت کو اپناتے گالیوں کو بھی تربیت کا حصہ سمجھا گیا تھا۔ انگریزی گالیو...