سچ

شاعر : عاطف ملک


جو ہم کہیں وہی ہے سچ

جو ہم لکھیں وہی ہے سچ

جو ہماری دستاویز ہے، وہی ہے سچ

جس پہ ہماری مہر ہے، وہی ہے سچ

ہمیں یہاں کے ہیں معتبر

ہمیں یہاں کی شان ہیں 

تمہیں ہماری کیا خبر

کیا مان ہے، کیا آن ہے


تمہیں گر ہے کچھ اور دکھا

تم نے گر ہے کچھ اورکہا 

تم پھر گہنگار ہو 

عدو کےتم یار ہو

تمہارا ہم کریں گے کچھ


مگر تم یہ جان لو

جھوٹ ہے سقوط ارض

جھوٹ ہے تاریک رات

جھوٹ ہے درماندگی

جھوٹ ہے  ٹپکتی رال

اور 

سچ نہیں فرقوں میں بٹی بحث

سچ نہیں فقیہِ غرض کا بول

سچ نہیں سیٹھ کا سیل کا بورڈ

سچ کٹی گھاس کی مہکار ہے

سچ ابھرتے سورج کی ہے روشنی

سچ کوری مٹی پہ بارش کی باس ہے

سچ ماں کی گود میں ہمکتے بچے کی ہنسی

سچ حسین کی پیاس ہے


تم نے جو کہا 

میں نے ہے سنا

میں مسافرِ آخر شب

سامانِ جھوٹ نہ اٹھاوں گا

اس حیاتِ اُلجھ سے

بے ریا ہی جاونگا


 

Comments

Popular posts from this blog

اشبیلیہ اندلس کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تصویری بلاگ

کرٹن یونیورسٹی میں طالب علموں کی احتجاجی خیمہ بستی کا منظر

رزان اشرف النجار -------------زرد پھولوں میں ایک پرندہ