قبرستان کہانیاں
قبرستان کے باہر لکڑی کے تختے پر گلاب کی پتیوں کا ڈھیر تھا۔ وہ پتیاں جو مرجھاتے ہوئے پھولوں سے اتاری گئیں، اور ان پتیوں سے زیادہ مرجھائی عورت لکڑی کے تختے پر بیٹھی ان پتیوں کو فروخت کر رہی تھی۔ وہ لکڑی کا تختہ اور لاشوں کو نہلانے کے تختے کا ماخذ ایک ہی تھا۔
قبریں، کیکر کے درختوں سے گرتے پتے اور زمین پر بکھرے کانٹے، کسی کم سن کی کچی قبر پر بکھرے سرخ دال کے دانے، گورکن کےغمزدہ کمرے کے باہر بھنگ گھوٹتا مریل جسم، اپنی عمریں ضائع کرتی پکی قبریں اور زمین میں دھنستی کچی قبریں؛ قبرستان کا منظر اپنی صدا لگاتا ہے۔ قبروں کے درمیان سے بل کھاتے رستے جو کسی اور قبر کے آنے سے بند ہوجاتے، کچی راہیں جو قبروں میں چلتی یک دم رک جاتیں، ایسے ہی جیسے کئی قبر وں کے مکین یک دم چلتے گرے تھے، کبھی نہ اٹھنے کے لیے۔ قبرستان کے راستے لوڈو کھیل کے سانپوں کی مانند بے ترتیب ہوتےہیں، اور یہاں تک کا سفر بھی شاید کسی اتفاقیہ کھیل کا تابع ہے۔
اُس دن ایک کوا اڑتا قبرستان پہنچا اور اس نے کائیں کائیں کے بیچ میں رک کر اتفاقاً کم سن کی قبر پر بکھری سرخ دال کا ایک دانہ دنکا، اگلے ہی لمحے وہ ایک ٹوٹی قبر کے سوراخ میں گرا تھا۔ ٹوٹی قبر ایک کمرے کے ڈھانچے کی پڑوسی تھی۔ ڈھانچہ، قبرستان کی بے ترتیب قبروں میں ایک کمرے کا ڈھانچہ کھڑا تھا، جس کی دیواروں پر پلستر نہ تھا۔ اینٹیں اپنے سرخ رنگ کے ساتھ میل خوردہ ہو رہی تھیں اور کمرے کے اوپر سبز گنبد تھا۔ یہ بابا مائی باپ کا مزار تھا اوراب بابا اور کوا پڑوسی تھے۔ وہ اکثر قبرستان کے تاریک ترین کونے میں بیٹھ کر روشن باتیں کرتے۔ انہیں منکر نکیر بھول چکے تھے، نہ صرف انہیں بھول چکے تھے بلکہ قبرستان میں دفن کے لیے آنے والی ہر میت کے اعمال کی پوٹلی، وہ ڈیٹا بیس جو دو انتھک فرشتے کاندھوں پر بیٹھے، بنا کچھ کھائے پیے بے دریغ لکھتے ہیں، وہ بھی میت کے کاندھوں سے اترنے سے قبل انہیں مل جاتی۔ بابا مائی باپ ہنس کے کہتا کہ کوے ازل سے ہیکر ہیں، دنیا میں ہر جگہ سے سامان اچک لیتے ہیں۔
وہ ان اعمال کی ڈیٹا بیس پر اپنا استفسار پھینکتے، ڈیٹا بیس پر اپنی بنائی کیوری لگاتے اور گذرے وقت کو رسیوں میں جکڑ کر اپنے سامنے لے آتے۔ لاش کے اعمال ان کے سامنے چلتے، وقت ان سے خوفزدہ تھا، کیونکہ وہ جو نہیں ہوا وہ اس کو بھی جان لیتے۔ وقت پر کثیر سمتی، ملٹی ڈائمینشنل، جال پھینکتے اور وقت سے کہیں آگے کا علم ان کے سامنے دھڑام سے آن گرتا۔
گم شدہ کونے ان کے سامنے آن کھڑے ہوتے۔ دودھ کاڑھتے حلوائی کی دکان پر پہلوانوں کے لگے اشتہار کا ایک کونہ جو وقت کے طلسم نے غائب کردیا تھا اور دوسرا کونہ جسے تاریک راتوں کو دیمک نے چاٹ لیا تھا، ان کے سامنے ہوتا۔ دیمک جو ٹیک لگی عصا کو چاٹتا رہا، مسلسل چاٹتا جب تک وہ دھڑام سے نہ گر پڑی۔ چاٹتا، وہ جو دھنسی قبر میں دفن پولیس کا آئی جی اپنی رکھیلوں کو چاٹتا رہا، پانچ شہروں میں رکھی رکھیلیں اور چھٹے شہر میں رکھی بیوی، لوڈو کا دانہ اور چھ کی بازی۔ چاٹتے چاٹتے آئی جی کی زبان جی ٹی روڈ جتنی لمبی ہو گئی تھی اور اس کی بہتی رال اگر دکھائی نہ بھی دے توبھی اس کی بدبو موجودگی بتاتی تھی۔ پھرایک دن گندے بدبودار نالے کے پل کی مانند جس پر ٹھیکیدار نے ناقص مال لگایا تھا، آئی جی دھڑام سے گر گیا۔ بیوی بیوہ ہوگئی اور رکھیلیں شکار پر نکل پڑیں۔ اب قبرستان میں اس کی دھنسی قبر میں جوا کھیلا جاتا، ہم جنس پرست وہاں موقع پاتے۔ جنس اور کند جنس اس کے ساتھ ہیں، اور قبر سے بدستور بدبو آتی ہے۔
بابے مائی باپ کے مزار پر الگ الگ لوگ آتے ایسے جیسے سندھی رلی کے رنگ برنگے پیوند ہوں۔ ایک ایرفورس کا ریٹائرڈ وارنٹ آفیسر، جس کا چہرہ جھریوں زدہ، ہاتھ کانپتے اور آنکھوں میں وحشت ہے۔ اس کے جوان بیٹے نے سنتری پوسٹ پر خودکشی کرلی تھی۔
سنتری پوسٹوں پرکی گئی خودکشیاں عجیب ہوتی ہیں۔
لڑکا میٹرک میں اسی فی صد نمبر لے کر جہازوں کا ٹیکنیشن بننے کا خواب لے کر گیا تھا، اور اُسے جی تھری رائفل پکڑا کر بے یقینی کی چیک پوسٹ پر کھڑا کر دیا گیا۔ اس نے خوب شور مچایا۔ اس کے ساتھ کووں کے جھنڈ بھی چیختے رہے مگر بندروں کے کان بند رہے۔ بندروں کے کان بند تھے اور انہوں نے آنکھوں پر ہاتھ رکھے تھے، ایلفی سے لیس دار ہاتھ جن سے ان کی پلکیں چپکی تھیں۔ پلکیں چپکی تھیں مگر وہ زبانوں سے شور کرتے تھے۔ الآ مان ، ایسا شور کہ سننے والوں کا بلڈ پریشر پہاڑ کی چوٹی پر جا پہنچے، مگر بندروں کے اپنے کان بند تھے۔
سنتری پوسٹ پر کھڑے سنتری کی آواز کوئی نہ سنتا تھا۔ جب حملہ آور نادیدہ ہوں، بے شناخت، بے سمت، باہر سے آجائیں، اندر سے برآمد ہوں، جب آواز کی آواز نہ ہو تو بے یقینی کے دھند ڈھانپ لیتی ہے۔ پھر نوجوان ایئرمین جی تھری کے بٹ کو زمین پر اور رائفل کی نال کو تھوڑی کے نیچے رکھتا ہےاور پیر کے انگوٹھے سے رائفل کا ٹریگر دبا دیتا ہے۔
سنتری پوسٹوں پر کی گئی خودکشیاں عجیب ہوتی ہیں۔
وحشت زدہ باپ کو لوگ زبان کے نیزے چبھوتے تھے۔ بابا مائی باپ نے ڈیٹا بیس پر استفسار لگایا، کیوری کا جواب آیا اور اس نے جھریوں زدہ وارنٹ آفیسر کو بتایا، یہ حرام موت نہیں۔ یہ کچلی آواز کا دھماکہ تھا، اورکچلی آوازوں کے دھماکے عجب مقامات پر ہوتے ہیں، جیسے سنتری پوسٹ۔
کہانی ابھی جاری ہے۔
Comments
Post a Comment