Posts

پھیلتی سیاہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک افسانہ

Image
  تحریر : عاطف ملک یہ افسانہ دانش ویب سائیٹ پر چھپا جس کے آرٹسٹ نے کہانی کے کرداروں پرند، سانپ، لڑکی، گھر کو اس تصویر میں اکٹھا کیا ہے وہ کالے رنگ کا ایک قطرہ تھا۔ ایک قطرہ جو گرا اور اُس نے کوئی خیال نہ کیا۔ چند دن بعد وہ قطرہ بڑھ گیا۔ پھر وقت کے ساتھ وہ قطرہ پھیلتا چلا گیا۔ ایک گول سیاہ ابھرا ہوا پھیلتا قطرہ، چاروں طرف پھیلتا جاتا۔  سیاہ قطرے کا دائرہ بڑا ہوتا جاتا تھا۔ ایک چھوٹے دائرے کی گولائی سے آگے بڑھ کر پیالے، پلیٹ کی گولائی سے بڑھ کر روٹی کی گولائی کی شکل لیتا۔  پھر وہ پھیل کر ایک سٹیڈیم کی گولائی تھی، سیاہ رنگ قطرہ بڑھتا ہی چلا جارہا تھا مگر اس کی کوئی بو نہ تھی۔ بڑھتے بڑھتے اس سیاہی نے مکان، محلہ، شہر سب سیاہ کردیے۔ وہ سیاہ قطرہ تھا کہ بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔ دن بدل گیا، رات اندھیری ہوگئی، گھپ اندھیری، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے مگر اس اندھیری رات میں بھی اُسے پھیلتا قطرہ پوری طرح دکھائی دے رہا تھا ۔ اچانک اس قطرے کا ایک حصہ ابھرا، اپنی سطح سے اُٹھا اور ایک شکل اختیار کرنے لگا۔ پہلے اس کی چونچ بنی، پھرآنکھیں، سر، گردن، اب یہ قطرہ سمٹ اور پھیل رہا ت...

ایروناٹیکل انجینئرنگ کا اکتیسواں کورس - یاد رفتگاں

جی اکتیس: یادِ رفتگاں تحریر : عاطف ملک یہ مضمون یکم اکتوبر دو ہزار سولہ کو ایروناٹیکل انجینئرنگ کے جی-اکتیس کورس کی تیس سالہ سالگرہ کے اکٹھ پر پڑھا گیا۔   کہتے ہیں کہ کورس میٹ بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں کہ دونوں خدا کی طرف سے آتے ہیں اور دونوں کے انتخاب میں آپ کا کوئی کمال نہیں ہوتا۔ آج سے تیس سال قبل جب ہم نے پی اے ایف کالج سرگودھا رپورٹ کی تو اک رنگارنگ گلدستہ سے واسطہ پڑا۔ پشاور سے پٹھان بھائی آئے تھے جو لان کو چمن کہتے تھے، اور ہم پنجابیوں نےتو چمن کے صرف انگور ہی سنے تھے۔ انگلستان سے او-لیول کرکے آئے بٹ صاحب تھے جو لان کو لون کہتے تھے، سمجھ نہیں آ تی تھی کہ سوٹ بنوانا ہے کہ سیر کو جانا ہے۔ گجرانوالہ سے آیا ثنا اللہ تھا جو کہ مارچ کرتے ٹانگ کے ساتھ اُسی طرف کا بازو بھی آگے لے کر جاتا تھا، کہ ایک دفعہ پریڈ کراتے سٹاف نے جب سائیڈ سے یہ دیکھا تو غصے سے بولا،" یہ کون بیوقوف کا بچہ دونوں ٹانگیں اٹھا کر چل رہا ہے"۔ ہندکو بولتا جہانگیری تھا جس کے دائِیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی ہاتھ سے یوں الگ رہتی تھی کہ پریڈ میں سلیوٹ کی خاطر وہ اُس پر بے رنگ کا دھاگا باندھ کر جوڑ...

غرناطہ کو چلیے ۔ پانچواں حصہ

Image
تحریر : عاطف ملک تصاویر : عاطف ملک و محی الدین  اگر کوئی تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے تو تصویر کے نیچے لکھ کر بتا دیا گیا ہے۔  غرناطہ کے سفر کا چوتھا حصہ نیچے کے لنک پر دیکھا جاسکتا ہے۔ https://aatifmalikk.blogspot.com/2020/01/blog-post.html ہم دریائے درو کے ساتھ ساتھ اوپر کو چڑھتے رہے، البسین کا علاقہ ہمارے بائیں جانب تھا جبکہ دریا دائیں جانب تھا۔  البیسین کے علاقے سے سامنے پہاڑی پر الحمرا کا محل نظر آتا تھا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ البیسین کی پہاڑی کی چوٹی، جس کی جانب ہم پیدل جارہے تھے، وہاں سے مخالف پہاڑی جس پر الحمرا واقع ہے وہاں سورج غروب کا منظر قابل دید ہے۔ سورج الحمرا کے عقب میں ہوتا ہے اور سورج کی سرخی الحمرا کے حسن میں ایک عجب اضافہ کرتی ہے، سو ہم امقام کی جانب پیدل  چڑھتے جارہے تھے۔ راہ میں البسین کی مختلف گلیوں کی تصاویر اتارتے رہے کہ کہتے ہیں کہ ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہے۔ مسافر کے خیال میں تو ایسا نہیں ہے، یہ مقام مقام کی بات ہے۔ کہیں تصویر الفاظ پر بھاری ہوجاتی ہے مگر بعض جگہ پر الفاظ کو تصویر پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ خیر ہم البسین کی گل...