کتابی افسر، کمانڈو سنتری اور آٹھ سو میٹر کی دوڑ سے سیکھا سبق
تحریر : عاطف ملک وہ فضائیہ کی اکیڈمی سے پاس آوٹ ہوا تو کراچی ملیر پوسٹنگ ہوئی۔ اکیڈمی میں اتھلیٹیکس میں حصہ لیتا تھا، 400 میٹر کی دوڑ خصوصی پسند تھی اور بنیادی طور پر اسی دوڑ کے تعلق سے جانا جاتا تھا۔ فائنل ٹرم میں بھی وہ اس دوڑ میں فاتح رہا تھا۔ 400 میٹر کی دوڑ کوئین آف دی ریسز کہلاتی ہے، اس میں سٹیمنا اورڈیش یعنی رفتار دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ اگر آپ شروع دوڑ میں زیادہ زور لگا دیں تو 300 میٹر کے بعد ختم ہو ں گے، اوراگرشروع میں آہستہ ہوں تو آخر میں دوسرے بھاگنے والوں سے اتنا فاصلہ ہوگا کہ اُنہیں نہ پکڑ سکیں گے۔ آپ کا سٹیمنا ایسا ہو کہ تین سو میٹر کے بعد ایک بھرپور ڈیش لگا سکیں۔ ایسی قوت کی دوڑ آخری سو میٹر میں لگائیں کہ فنش لائن کے بعد جسم میں زور کا ایک قطرہ بھی نہ ہو۔ دوڑ کے بعد آپکی ٹیم کے ساتھی آپ کو اٹھاتے تھے اور کمبل میں لپیٹ کر خوب دباتے تھے۔ گرم کمبل اورتین لوگ دباتے ہوئے، وہ لوگ جو آپ کے ساتھ اس مقابلے کے جوش میں ڈوبے ہوتے۔ ہاتھ دباتے اور زبان متواتر چل رہی ہوتی، مقابلوں کے اتراوچڑھاو پر اپنے انداز کی روشنی، آواز میں جوش اور کہیں ہار کے تذکرے کا دکھ ۔ کائنات اس ل...