Posts

کتابی افسر، کمانڈو سنتری اور آٹھ سو میٹر کی دوڑ سے سیکھا سبق

Image
تحریر : عاطف ملک وہ فضائیہ کی اکیڈمی سے پاس آوٹ ہوا تو کراچی ملیر پوسٹنگ ہوئی۔ اکیڈمی میں اتھلیٹیکس میں حصہ لیتا تھا، 400 میٹر کی دوڑ خصوصی پسند تھی اور بنیادی طور پر اسی دوڑ کے تعلق سے جانا جاتا تھا۔ فائنل ٹرم میں بھی وہ اس دوڑ میں فاتح رہا تھا۔ 400 میٹر کی دوڑ کوئین آف دی ریسز کہلاتی ہے، اس میں سٹیمنا اورڈیش یعنی رفتار دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ اگر آپ شروع دوڑ میں زیادہ زور لگا دیں تو 300 میٹر کے بعد ختم ہو ں گے، اوراگرشروع میں آہستہ ہوں تو آخر میں دوسرے بھاگنے والوں سے اتنا فاصلہ ہوگا کہ اُنہیں نہ پکڑ سکیں گے۔ آپ کا سٹیمنا ایسا ہو کہ تین سو میٹر کے بعد ایک بھرپور ڈیش لگا سکیں۔ ایسی قوت کی دوڑ آخری سو میٹر میں لگائیں کہ فنش لائن کے بعد جسم میں زور کا ایک  قطرہ بھی نہ ہو۔ دوڑ کے بعد آپکی ٹیم کے ساتھی آپ کو اٹھاتے تھے اور کمبل میں لپیٹ کر خوب دباتے تھے۔ گرم کمبل اورتین لوگ دباتے ہوئے، وہ لوگ جو آپ کے ساتھ اس مقابلے کے جوش میں ڈوبے ہوتے۔ ہاتھ دباتے اور زبان متواتر چل رہی ہوتی، مقابلوں کے اتراوچڑھاو پر اپنے انداز کی روشنی، آواز میں جوش اور کہیں ہار کے تذکرے کا دکھ ۔ کائنات اس ل...

مامی کے مقدر میں رونا لکھ دیا گیا ہے

 تحریر : عاطف ملک آج مامی فرحت پھر رو رہی ہے۔ اب تو یہ معمول ہی بن گیا ہے۔ پتہ نہیں کیوں اس کا نام ماں باپ نے فرحت رکھا تھا۔ نام بعض اوقات الٹ اثر رکھتے ہیں۔ مگر کیا نام میں کچھ ہوتا ہے، یا نصیب ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ مامی کا نام کچھ بھی ہوتا، اب اس نے رونا ہی تھا۔ اس کے مقدر میں رونا لکھ دیا گیا ہے۔ پکے اسٹامپ پیپر پر، انمٹ سیاھی سے۔ اور سیاھی ایسی کہ خشک ہی نہیں ہوتی، مامی کے آنسووں کی مانند برس ہا برس سےگیلی۔     مامی کو پچھلے پانچ سال سے میں نے مسلسل روتے ہی دیکھا۔ پانچ سال سے پہلے بھی وہ روتی تھی مگر   سب کے سامنے نہیں۔ اس کی آنکھیں بتاتی تھیں کہ وہ روتی ہے۔ آنکھیں بھی بچوں کی طرح ہوتی ہیں، کچھ چھپا نہیں سکتیں، سب بتا دیتی ہیں، بنا پوچھے، بغیر کسی سوال کے، کسی معصوم کی مانند۔ زبان جھوٹ بھی بولے تو آنکھیں سچ بول رہی ہوتی ہیں۔ اور مامی کی آ نکھیں؛ مامی کی آنکھیں تو ویسے بھی الگ تھیں، بڑی بڑی، اپنی طرف کھینچتی۔ جب میں نے اُسے پہلی دفعہ دیکھا تھا تو دیکھتا رہ گیا تھا۔ اور ویسے بھی یہ اُس کی شادی کا دن تھا، اورمیں شادی کا سربالہ۔ جب دولہا دلہن کو ساتھ بٹھایا گ...

اور کان ہیں کہ پرندوں کی چہچہاہٹ کو ترس گئے ہیں

Image
تحریر: عاطف ملک آج صبح پودوں کو پانی لگاتے ایک مینڈک کو دیکھا کہ اونچے مقام پر جاپہنچا تھا۔ اُسے دیکھا تو کئی اور منظر نگاہ میں اورخیال سوچ میں آگئے۔ سب سے پہلا خیال یہ تھا کہ کیا یہ مینڈک ہے کہ مینڈکی۔ آج کے فیمینزم کے دور میں مردانہ صیغہ کا واحد استعمال خصوصاً ترقی کے لیے بالکل بھی موزوں نہیں۔ مینڈک کی اس ترقی کو دیکھ کرکچھ پرانے تجربے یاد آگئے۔ ایک نوکری تھی جس میں ٹرٹرانے کی خصوصی اہمیت تھی۔   کارکردگی ناپنے کے پیمانے اہداف یعنی ٹارگٹ  Target based  کی بجائے گمانی یعنی  Subjective  ہوں تو یار لوگوں نے جان لیا کہ ٹرٹرانے کی اہمیت دوچند ہے۔ ایسے میں نیچے والوں سے بدتمیزی کو بھی کارکردگی کا معیار جان لیا گیا، سو وہ مینڈکوں کا شور تھا کہ چمن میں جو چند پرندے چہچہاتے تھے، وہ باعثِ الزام ٹھہرے۔ جوپرند اڑ سکے اڑ گئے، باقیوں کی آواز ٹرٹراہٹ میں گم تھی۔ مگر ایسے پرندوں کی اہمیت دوچند تھی کہ کثیف ہوا میں تازہ ہوا کا ایک جھونکا بھی زندگی بخش ہوتا ہے۔ مینڈک نوکری کی شاخوں پراوپرچڑھتے گئے، جب وہاں سے گرے تو پریشاں حال تھے کہ محنت کی اس...

لٹل انڈیا سنگاپور میں آوارگردی

Image
دسمبر 2017 میں سنگاپور جانے کا اتفاق ہوا۔ اس موقع پر سنگاپورکے علاقے لٹل انڈیا بھی گیا، جہاں ایک مندر بھی ہے۔ اس بلاک  پوسٹ میں لٹل انڈیا کی کچھ تصاویر ہیں۔   لٹل انڈیا  ٹرین سٹیشن لٹل انڈیا میں مندر کے ساتھ پھولوں کے ہار چڑھاوے کے لیے سبزی ہوٹل انڈین ہوٹل آئی بی ایم آرٹ اشتہار سنگاپورمیں مندرکا بیرونی منظر مندر کا دروازہ مندر کے دروازے پر پھولوں کو ہاتھ لگا کر لوگ اندر جاتے ایک مندر آنیوالا مندر دیوی  کردار پرادھنا کی قطار پروھت پروھت اور پجاری چڑھاوے جو بتوں کی بجائے پروھتوں کے کام آتے ہیں چڑھاوے جو بتوں کی بجائے پروھتوں کے کام آتے ہیں Copyright © All Rights Reserved : No portion of this writing may be reproduced in any form without permission from the author. For permissions contact: aatif.malikk@gmail.com

حلال ذہن میں ہوتا ہے

Image
تحریر : عاطف ملک وہ یونیورسٹی کے آڈیٹوریم سے ماسٹرز کورس کے تین منتخب شرکاء کی تقریریں سن کر ساتھ والے ہال میں داخل ہورہے تھے۔ ارشد کو پہلی تقریر پسند آئی  تھی، لیسی کی تقریر۔ اس کورس میں اس کو ویسے بھی لیسی سے گپ شپ کا مزہ رہا تھا۔ اچھی ملنسار سی لڑکی تھی، قدرے بھاری جسم کی، بال کٹے ہوئے، نیلی آنکھیں چمکتی ہوئیں، ہر وقت مسکراتی۔  یہ وقت بہت سخت رہا تھا۔ یہ بزنس سکول والے بھی آدمی کی مت مار دیتے ہیں۔ لیکچرز، کیس سٹڈیز، گروپ ڈسکشن، پریزینٹیشن، انفرادی سوال جواب؛ ایک کے بعد ایک ۔ وہ صبح یونیورسٹی آتا تھا اور رات گئے فارغ  ہوتا تھا۔ دوپہر کا کھانا سب بزنس سکول کی کینٹین میں کھاتے تھے۔ وہ کورس کے کافی ساتھیوں کوجان گیا تھا۔ شام ہو چلی تھی، کورس کا اختتام تھا، آخری تقریریں، سرٹیفکیٹس کی تقسیم اور الوداعی ڈنر۔ سب لوگ کوٹ پینٹ ٹائی اورفارمل لباس میں تھے۔ آخری تقریر کورس کے ڈائریکٹر نے کی، وہی عمومی باتیں جو ایسے موقعوں پرکہی جاتی ہیں۔ یہ مشکل کورس تھا مگرآپ کی محنت نے اسے ممکن بنایا، یہ کورس کا سیکھا آپ کی زندگی کے ساتھ جائے گا، آپ کے اساتذہ کی محنت قابل ِتعر...

ایک فوجی اکیڈمی میں پڑھانے کا تجربہ

Image
تحریر : عاطف ملک قسمت کا لکھا تھا سو ہمیں نسٹ یونیورسٹی کے کالج آف ایروناٹیکل انجینرنگ میں پڑھانے کے لیے تعینات کر دیا گیا۔ یہ کالج پی اے ایف اکیڈمی میں ہے، سو ہمارے تجربے میں اضافہ ہوا۔ اکیڈمی میں استادی دراصل استادوں کا کام ہے، سو اس بنا پر ہم اپنے آپ کو شاگردوں میں شمار کرتے ہیں اور اپنے کئی شاگردوں کو استادوں میں گنتے ہیں، بلکہ ہمارے ہوتے ہوئے ہی بدرجہ استانیوں کی بھی آمد اکیڈمی میں شروع ہو گئی تھی۔ اکیڈمی عجب جگہ ہے جہاں گھاٹ گھاٹ کے نوزائیدہ  آئی ایس ایس بی کی چھلنی سے گذرکراکٹھے ہوتے ہیں، اور پھر ارتقائی عمل سے گذرتےہیں۔ اکیڈمی میں پڑھانے کے دوران ہم نے کیڈٹ کو بکری سے شیر بنتے اوربعد میں اُسی شیرکو نوکری میں بکری کی شکل اختیار کرتے دیکھا۔ اب پتہ نہیں ایسی تبدیلیاں ڈارون نے بھی دیکھی تھیں یا اُس نے بندر کو انسان ہی بنتےدیکھا۔ ہم نے ڈارون سے بڑھ کراکیڈمی میں انسان کو بندر بھی بنتے دیکھا۔ عجب سڑک پربندروں کی طرح کیڈٹ بیٹھتے اچھلتے جاتے تھے۔ شروع میں اس ارتقائی تنزل کو دیکھ کر پریشان ہوئے مگربعد میں پتا لگا کہ یہ ٹریننگ کا حصہ ہے کہ اس سے شخصیت سازی ہوتی ہے۔  اکیڈ...

اگست 1947 اور ماموں رفیق کی کہانی

Image
تحریر : عاطف ملک   اگست 2018 کو لکھا بچپن میں یاد نہیں کہ کب ماموں رفیق سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔  وہ میری والدہ اور والد دونوں کے رشتے کے بھائی تھے۔ شاید وہ ہمارے گھر آئے تھے یا ہم اُن کے گھر گئے تھے۔ اُن کے گھر جانے کی ملاقات کےعلاوہ بھی وجہ ہوتی،  سو اماں ابا عید تہوار سے قبل اُن کی طرف جاتے تھے۔  لاہورمیں انجینرنگ یونیورسٹی سے جی ٹی روڈ پر شہر کی طرف چلیں تو سڑک ریلوے لائن کےساتھ چلتی جاتی ہے۔ گھڑی شاہو کا پل اترکربائیں مڑیں تواسی جی ٹی روڈ پرچڑھیں گے۔ شروع میں بائیں طرف ریلوے ملازموں کی کالونیاں ہیں اوردائیں طرف پرانی آبادیاں ہیں؛ سوامی نگر، تیزاب احاطہ، سلطان پورہ، آگے چمڑہ منڈی اور جی ٹی روڈ ریلوے لائن کے متوازی ہو جاتی ہے۔ ایک موریہ پل اور دو موریہ پل، جو پل نہیں بلکہ ریلوے لائن کے نیچے سے نکلتے راستے ہیں کہ جن سے نکل کر سرکلر روڈ سے ہوکر اکبری منڈی ، شاہ عالمی اور اندرون لاہور جاسکتے ہیں۔ سوامی نگر، تیزاب احاطہ کےعلاقےعمومی طورپرمتوسط، سفید پوشوں کے علاقے تھے۔ ایک بہت بڑی تعداد ریلوے کے ملازمین کی تھی؛ بکنگ کلرک، گارڈ، کانٹا بدلنے والے، ریلوے ک...