Posts

علی افضل کا عاطف ملک کے افسانے " وائرس سکونا" کا منظوم پنجابی ترجمہ

Image
عاطف ملک کی مختصر کہانی " وائرس سکونا" کا  علی افضل  کا منظوم پنجابی ترجمہ کہانی درج ذیل لنک پر پڑھی جاسکتی ہے۔ https://aatifmalikk.blogspot.com/2020/04/blog-post_6.html اک انوکھا ویرس یارو دنیا تے سی آیا کجھ پاسے تے سب سی چنگا، کتے ہنیر مچایا کجھ شہراں وچ ہو دا عالم، نہ کوئی آوے جاوے جو بڑ بولا منہ نوں کھولے اوہ نکا ہو جاوے پیر، منسٹر، مولوی، جرنل، اینکر شینکر، کوئی وی بچ نہ پایا سب سی منہ لکوندے پھردے سب نوں پڑتھو پایا ادھی الیٹ سی بونی ہوئی، باقی اندرے بیٹھی کئے سیانے بولے، ایناں جو بویا اوہ پایا چونڈیاں آلے ماسک سن بن دے، منہ نوں بند کروان فیر وی عادت چھڈ ناں پاون، اے گلاں کر جاون سب نوں تھوڑا سکون سی لبھیا لوکی خوش سن پھردے ایس سکون دی کارن ویرس 'سکونا' اکھوایا

پنجابی کی ایک مزاحیہ نظم، اردو انگلش رل رُل گئی اے

Image
اردو انگلش رل رُل گئی اے شاعر : عاطف ملک اردو انگلش رل رُل گئی اے اودی آئی تے ساڈی اکھ لڑ لُڑ گئی اے اودی لٹ دی گھم گھمیری ساڈا دل وی لُٹ لٹ گئی اے لارے لا کے، مال گھڈا کے نوئی نکرانی نھٹ نُھٹ گئی اے پیار دے وچ لو دا لا کےتڑکا دال وی تر تُر گئی اے پِھکی جاندے ویلے اکھ دا اتھرو، بُل تے ہاسا جند تے ساڈی سر سُڑ گئی اے آندے جاندے ، ہیلو بائے بائے نسل تے اگلی پڑھ پُڑ گئی اے چست پتلوناں، نکیاں شرٹاں حیا دی چدر اُڈ پُڈ گئی اے بڈے ویلے فرینڈ ریکوسٹاں، واٹس اپ میسج پنشن ساری لٹ پٹ گئی اے، پنشن ساری لٹ پٹ گئی اے اردو نوں ریلیف اے ملیا کہانی دے وچ سٹوری آگئی سٹوری وچ بریک فیر آئی ممی نے جھٹ روٹی لائی کوفتہ کری وی ٹیسٹی آئی تینوں میں بیب اے دساں اردو انگلش رل رُل گئی اے اردو دے وچ انگلش گھولو ابے نوں فیر پاپا بولو معاملہ ایہو کول ہویا اے دیسی چاچا فول ہویا اے گاماں، ماجھا، شوکی شرلی پھاتاں، نوراں، شیداں بجلی دھوتی لا ہ کے پنٹاں پائیاں شوکی شرلی، شیدا ٹلی برگر کھا کے سیم ہوئے نے کنی مندری، گل اچ لاکٹ، ہن تے واہ واہ ...

The CHILLONA Virus : English translation of story وائرس سکونا

The CHILLONA Virus : A Short Story written in Urdu by Aatif Malik and translated in English by Suhail Akhtar The original Urdu Story can be read at following link: http://aatifmalikk.blogspot.com/2020/04/blog-post_6.html It was an extraordinarily bizarre pandemic. Some were completely unaffected while others were gripped by a palpable feeling of dread. The virus made you grow shorter when you spoke, but the strange thing was that not everyone became a dwarf. There we people who were immune, they could babble all day without becoming even a shade shorter. These were usually the blue collars, the street vendors, the labourers and the garbage collectors etc. In fact these people were happy and engaged in even more lively and animated banter than usual. On the contrary some professions were badly hit. Television anchors used to bolstering their intellectual credential via exaggeration and hyperbole, Op-ed writers who built citadels to their personal wisdom on a foundation of falseho...

وائرس سکونا – ایک مختصر کہانی

تحریر : عاطف ملک عجب وبا پھیلی تھی۔  کچھ علاقے بالکل متاثر نہ ہوئے تھے، مگر بعض علاقوں میں ناقابلِ بیان دہشت کا عالم تھا۔ ایسا وائرس پھیلا تھا کہ لوگ بات کرتے تھے اور بونے ہوجاتے تھے۔ مگر ایک عجب بات تھی کہ یہ وائرس ایسا تھا کہ سب چھوٹے نہیں ہوتے تھے۔ کئی لوگ باتیں کرتے رہتے تھے مگر انکا قد چھوٹا نہیں ہوتا تھا۔ خوانچہ فروش، مزدور، نانبائی، کوڑا اکٹھا کرنا والے سب اپنی جسامت میں رہ رہے تھے۔ گپیں لگا رہے تھے اور خوش تھے بلکہ گمان ہے کہ پہلے سے کہیں زیادہ بول رہے تھے۔    عجب معاملہ تھا کہ کچھ شعبوں کے لوگ بری طرح متاثر ہوئے تھے؛ ٹی وی پر بےلگام چرب زبانی سے اپنا قد بڑھا چڑھا کر بیان کرتے اینکر پرسن، جھوٹ کے پلندوں سے اپنی لیاقت کا اظہار کرتے کالم نگار، نوکری کے قصوں کی بیساکھیوں سے اپنی قامت کو اونچا کرتے ریٹائرڈ بیوروکریٹ، دوسروں کی بات کو بار بار کاٹ کر اپنی بہادری کی طومار لگاتے ریٹائرڈ جرنیل، اپنی مخفی کرامات کو آشکار کرتے مزاروں کے سجادہ نشین، چاپلوسوں اور سرکاری فنڈ سے اپنے نام کو مشہور کرتے سیاست دان ؛ سب بری طرح اس وائرس کی لپیٹ میں تھے۔  ان میں سے ...

ایرپورٹ کا منظر

تحریر : عاطف ملک نوٹ : اپنے ایک سفری بیگ سے سامان نکال رہا تھا تو ایک پرانی تحریر کے کچھ صفحات سامنے آگئے۔ یہ کسی ایرپورٹ پر انتظار کی کیفیت میں کاغز پر لکھے گئے ہیں۔ کچھ صفحے گم ہوگئے ہیں مگر سوچا کہ جو لکھا ہوا ہے اُسے ٹائپ کرتا ہوں اور دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں کہ کیا کوئی منظر سامنے آتا ہے؟ یہ علم نہیں کہ یہ کونسا ایرپورٹ ہے، مگر اس کا جاننا ضروری بھی نہیں کہ یہ منظر ہر ایرپورٹ کا ہے۔ پچھلے صفحے گم ہوچکےہیں، اگلے صفحے کا بے ترتیب آغاز کچھ یوں ہے۔   مشروب کے قطرے اچھلتے دکھائی دے رہے تھے۔ جہاز اڑنے میں ابھی دیر تھی۔ لوگ آآ کر آرام دہ چمڑے کی سیٹوں پر بیٹھ رہے تھے، جبکہ وہ زمین پر ٹانگیں لمبی کیے بیٹھا، کچھ سوتا، جاگتا فلائیٹ کے اعلان کا انتظار کررہا تھا۔ اُس کے بائیں جانب ایک جوان لڑکا بیٹھا تھا، وہ کانوں پر ایر فون لگائے اپنے جہان میں گم تھا۔ لڑکے کے بال سائیڈ سے تراشیدہ تھے، جبکہ سر کے درمیان میں بالوں کی پونی تھی۔ اُس نے ہلکے رنگ کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر دو مغربی ممالک کے جھنڈے بنے تھے۔ لڑکے کے بازووں پر ایک لڑکی کی تصویر کا ٹیٹو تھا، لڑکی کے ہونٹ سخت سرخ رنگ ک...

وائرس کے ساتھ ساتھ خوف کو بھی شکست دینا ہوگی

تحریر: عاطف ملک پچھلے کئی سالوں سے ایک فلاحی طبی ادارے کے ساتھ رضا کارانہ طور پر منسلک ہوں، اور اس ادارے کو پچھلے کئی سالوں میں ایک چھوٹی سی ڈسپنسری سے بڑھ کر ایک مکمل ہسپتال بنتا دیکھا ہے۔ اس سفر میں پاکستانیوں کی مدد اور جذبے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ دنیا کی  ہر قوم میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، پاکستانی قوم بھی کوئی استثناء نہیں ہے، جہاں بری کہانیاں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں، وہیں قربانی کی بھی کئی واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔  کل اس طبی ادارے کے انچارج سے بات ہوئی تو علم ہوا کہ ایک ڈاکٹر استعفی دے گئی ہیں، وجہ جو بھی بیان کی گئی مگر ظاہر بات تھی کہ وہ خوف کی شکار تھیں، اور ہسپتال میں مریضوں سے رابطے سے بچنا چاہ رہی تھیں۔ مزید علم ہوا کہ دو اور ڈاکٹر بھی ایسا ہی عندیہ دے چکے ہیں۔ کسی اور ذرائع سے پتہ لگا ہے کہ  کچھ مزید طبی عملہ بھی گھر بیٹھ گیا ہے، کچھ ہسپتال بھی بند ہوگئے ہیں اور کچھ نے اپنا دورانیہ بہت کم کردیا ہے۔ طبی عملے کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ اس معاملے کی وجہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے تدارک کے لیے اقدامات کرنا چاہیئیں۔  خ...

چند اشعار

Image
The pic was taken by me at one of the superchains in Australia آسٹریلیا میں ٹوائلٹ رول کی panic buying پر ایک قطعہ : میری پہنچ سے نکل کر کہیں دور جانے والے تیرا گلی گلی میں چرچا، ذکر ہر انجمن میں سرِ ALDI پکارا، لبِ Coles بھی صدا دی میں کہاں کہاں نہ پہنچا تیری دید کی لگن میں (عاطف ملک) P.S.    ALDI and Coles are two super market chains ایک اور شعر: کوئی ہا تھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ کرونا وائرس کا دور ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو (عاطف ملک)  ایک شعر کے ساتھ اپنی کچھ تُک بندی: سب کچھ جو چمکدار ہو، سونا نہیں ہوتا ہر چھینک کا مطلب تو کرونا نہیں ہوتا (رحمان فارس) جا ستم گر تجھے چھوڑ دیا ہم نے ہر دل کا مطلب تو کھلونا نہیں ہوتا (عاطف ملک)