Posts

برادر عید مبارک

Image
تحریر : عاطف ملک یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں مسلمان طالبعلموں اور اساتذہ کی نمازوں کے لیے ایک کمرہ یونیورسٹی انتظامیہ نے دیا ہے۔ یہ کمرہ ماضی کے طالبعلموں کی لگاتار کوششوں کی وجہ سے ملا تھا۔ اسے مصلہ کے نام سے جانا جاتا ہے، جمعہ کی نماز یہاں نہیں ہوتی بلکہ یونیورسٹی کے جمنیزیم میں جمعہ  کی نماز کے لیے جگہ کرائے پر لی جاتی ہے۔ جوتے اتار کرکمرے میں داخل ہوں تو دائیں جانب ایک دروازہ ہے جو ایک مختصر سے کچن میں کھلتا ہے۔ ایک واش بیسن اور اس سے متصل پتھر کی سل پر ایک مائکرو ویو اون پڑا ہے جس کے ساتھ کچھ برتن پڑے نظر آتےہیں۔ دیوار پر ایک نوٹس چسپاں ہے کہ برتن کھانے کے بعد دھو کر رکھیں۔  ایک کونے پر دو دروازوں کا سفید رنگ کا فریج کھڑا ہے۔  مائیکرو ویو میں کچھ کھانا گرم کریں تو خوشبو پورے کمرے میں پھیل جاتی ہے۔ اور اگر سجدہ گیر جذبے سے مانگے تو اُسے کھانے کو بھی مل جاتا ہے۔ کچن سے واپس نکلیں تو آپ مسجد کے کمرے میں ہیں، مگر یہ کمرہ مسجد کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ ایک کونے پر کسی طالبعلم کا پہیوں والا لکڑی کا سکیٹ بورڈ پڑا ہے۔ یونیورسٹی میں بہت سے طلبا آپ کو لکڑی کے...

GAZE ----------- a short story by Muhammad Jarar Malik

Image
Muhammad Jarar Malik receiving the award for his writing Introduction : Muhammad Jarar Malik is a Year 11 student, living in Perth, Australia. His story "GAZE" was the finalist among 1400 submissions to Armadale Young Writers' Competition in 2019. GAZE He sat there gazing, outside the window. The scene outside hardly resembled the scene inside his head. Outside it was quiet. Outside there was peace, there was order. Inside just turmoil and chaos. Rays of sunlight fell upon his face, causing a sense of drowsiness. A fake escape. A peaceful slumber. He opened the window to be one with nature hoping it would comfort him. He was met only with hopelessness. He sat there gazing, outside the window. He sat there and he saw. He saw the flock of birds as they flew across. He saw the white clouds line up in the vast sky. An infinite blue, bright and clear. Seemingly pleasant, unlike the ground below. Oblivious to the chatter around him, oblivious to his surroundi...

Hundred words Story

Yesterday evening at Perth, sat a group of multi-ethnic budding writers (one has already published a novel), and each had a task to write a drabble (100 words story excluding title) in 10 to 15 minutes. Quite an experience, and here is 100 words that I wrote. Hundred words Story By Atif Malik Hundred I thought, Just hundred. If I get a hundred bill, I pay my bill. If I score hundred runs, I have a century. If I write hundred words, I have my story. But hundred is a lot, it is lot to toil. To live hundred years, one has to live many centuries. I have a small story, like a snail at the beach, traversing few spread sands particles is enough for it to complete the life journey. So this is my story not a hundred words, few words. Waked up, amazed, lost and happy, looking for the next story. Copyright © All Rights Reserved : No portion of this writing may be reproduced in any form without permission from the author. For permissions contact: aatif.malikk@gmail.com

مسافر کی روداد

تحریر : عاطف ملک وہ ایک ادھیڑ عمر آدمی تھا، ادھیڑ عمر اور شرارتی۔ کلین شیو، سر سے گنجا، بھاری جسم اور مسکراتا چہرہ۔ جیسے ہی اُس نے بات شروع کی تھی، مجھے علم ہوگیا تھا کہ وہ ایک شرارتی آدمی ہے۔ اس کی آنکھوں میں چمک اور چہرے کی مسکراہٹ اس کا بتا رہی تھی، مسجد کے لاوڈ سپیکر سے ہوتے اعلان کی طرح چاروانگ شور مچاتی۔ آنکھوں میں چمک اصل میں زندگی ہے۔ بچوں کی آنکھوں میں جھانکیے، جوانی کو چھوتے لڑکے لڑکیوں کی آنکھوں میں دیکھیے، ادھیڑ عمروں کی نگاہوں پر نظر ڈالیں، کچھ بوڑھے بھی مل جاتے ہیں کہ نظر بےشک کمزور ہو گئی ہو مگر آنکھ کی چمک زندہ ہوتی ہے۔  ایسوں کے ساتھ بیٹھ جائیے، یہ کچھ نہ کچھ نکالیں گے۔ یہ سپیرے ہیں، بین بجائیں یا نہ بجائیں اپنی پٹاری سے کچھ ایسا نکالیں گے کہ حیران کردیں گے۔   وہ میرے سامنے بیٹھا تھا مگر مجھ سے بات نہیں کر رہا تھا بلکہ میز پر میرے ساتھ بیٹھی گردن تک کٹے گھونگریلے بالوں والی پُروقار خاتون سے بات کررہا تھا، گوری، نازک سی عینک لگائے پرُاعتماد خاتون۔ مجھے صاف نظر آرہا تھا کہ وہ شرارت کر رہا ہے، کسی لغویت یا بےہودگی کے بغیر بس ایک شرارت، اس...

ریاضی کی نمبر تھیوری اور رسیوں کی گرہیں

تحریر و تلخیص : عاطف ملک اکشے وینکتش، پیدائش دہلی ۱۹۸۱، دو سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ آسٹریلیا آگئے۔ والدہ، سویتا وینکتش نے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی۔ اکشے نے تیرہ سال کی عمر میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ریاضی کی تعلیم شروع کی۔ یونیورسٹی کی سو سالہ تاریخ میں وہ سب سے کم عمر یونیورسٹی شروع کرنے والے طالبعلم تھے۔ انہوں نےیونیورسٹی کی چار سالہ  ریاضی کی ڈگری تین سال میں فرسٹ کلاس فرسٹ مکمل کی اور اس طرح وہ یونیورسٹی کی تاریخ کے کم سن ترین گریجوئیٹ بھی ہیں۔ انہوں نے بارہ سال کی عمر میں فزکس اور ریاضی اولمپکسز کے عالمی مقابلوں میں میڈل بھی حاصل کیے تھے۔ سولہ سال کی عمر میں وہ پی ایچ ڈی کے لیے پرینسٹن یونیورسٹی، امریکہ چلے گئے جہاں سے چار سال بعد انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے  بعد ایم آئی ٹی اور نیویارک یونیورسٹی میں تعیناتی کے بعد وہ ۲۰۰۸ میں سٹینفورڈ یونیورسٹی میں فل پروفیسر ہوگئے۔ ۲۰۱۸ میں انہیں ریاضی کا فیلڈ میڈل دیا گیا جوکہ ریاضی کا نوبل پرائز جانا جاتا ہے۔  بائیس اگست ۲۰۱۹ کو پروفیسر اکشے کو ...

Transit - A very first English Poem by Atif Malik

Lying on a bench at the airport I am half asleep half awake An eye closed, the other on the bag Am I sleeping or is it all fake Sitting at the airport, I wait for the next flight Tired, sleepy, sleepless, it has been a long night Sitting on the bench on my side, Two old parents on a stride, To meet their son who left ages ago Ages ago for the future to be bright Afraid, they are afraid I can see they are afraid For them airport is a strange place Noisy, bright, engulfed with a fright Agony written on the face Sitting in a miserable plight Like me Waiting for their next flight When is the next flight? With sleepy eyes, I see a group of teenage girls They giggle and their wings flutter The next flight has no meaning for them Nothing for them is a sack They giggle as they can bring a flying machine back With closed eyes, I hear shouts And the electronics boards shroud When is the next flight? The next flight will take off at its time Not earlier, not later, at...

مکالمہ ---- عورت ہی عورت کی مددگار ہے

تحریر: عاطف ملک سائرہ : نائیلہ، تم سے کتنے عرصے بعد ملاقات ہورہی ہے۔ میڈیکل کالج کے بعد تم ایسی امریکہ گئی کہ کوئی خیر خبر ہی نہ تھی۔ یہ تو بھلا ہو فیس بک کا کہ تم سے اتنے سالوں کے بعد رابطہ ہوسکا اور آج ملاقات ہو پائی۔  نائیلہ : سائرہ، کیا بتاوں تمہیں۔ جب میں امریکا گئی تھی تو پاکستان فون کرنا اتنا مہنگا تھا کہ ہفتہ میں ایک بار ہی گھر فون کر پاتی تھی، اور امریکا میں سیٹل ہوناکونسا آسان ہے، یو ایس ایم ایل ای کا امتحان پاس کرتے کرتے ہی مت ماری جاتی ہے، پھر ریذیڈنسی اور پھر بچے، ایک کے بعد ایک مرحلہ سامنے آتا رہتا ہے۔ یہ تو ٹیکنالوجی کا اعجاز ہے کہ اب پرانی دوستوں سے رابطہ قائم ہو سکا ہے۔ سائرہ : اعجاز، تم نے یہ کس بدبخت کا نام لے لیا۔ نائیلہ : کیوں۔ یہ اعجاز کون ہے؟ سائرہ : وہ منحوس میرا میاں تھا۔ میرے ماں باپ نے اُس سے شادی کر دی تھی کہ لائق لڑکا ہے، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کا پڑھا ہے، سپیشلائزیشن کررہا ہے۔ شادی کے ایک ماہ بعد ہی میں نے دیکھ لیا کہ یہ تو اپنی ماں کے اثر میں ہے۔ جب دیکھو، امی امی کہہ رہا ہوتا تھا۔ امی نے کھانا کھایا ہے، امی نے یہ کہا ہے، امی یہ ...