Posts

Transit - A very first English Poem by Atif Malik

Lying on a bench at the airport I am half asleep half awake An eye closed, the other on the bag Am I sleeping or is it all fake Sitting at the airport, I wait for the next flight Tired, sleepy, sleepless, it has been a long night Sitting on the bench on my side, Two old parents on a stride, To meet their son who left ages ago Ages ago for the future to be bright Afraid, they are afraid I can see they are afraid For them airport is a strange place Noisy, bright, engulfed with a fright Agony written on the face Sitting in a miserable plight Like me Waiting for their next flight When is the next flight? With sleepy eyes, I see a group of teenage girls They giggle and their wings flutter The next flight has no meaning for them Nothing for them is a sack They giggle as they can bring a flying machine back With closed eyes, I hear shouts And the electronics boards shroud When is the next flight? The next flight will take off at its time Not earlier, not later, at...

مکالمہ ---- عورت ہی عورت کی مددگار ہے

تحریر: عاطف ملک سائرہ : نائیلہ، تم سے کتنے عرصے بعد ملاقات ہورہی ہے۔ میڈیکل کالج کے بعد تم ایسی امریکہ گئی کہ کوئی خیر خبر ہی نہ تھی۔ یہ تو بھلا ہو فیس بک کا کہ تم سے اتنے سالوں کے بعد رابطہ ہوسکا اور آج ملاقات ہو پائی۔  نائیلہ : سائرہ، کیا بتاوں تمہیں۔ جب میں امریکا گئی تھی تو پاکستان فون کرنا اتنا مہنگا تھا کہ ہفتہ میں ایک بار ہی گھر فون کر پاتی تھی، اور امریکا میں سیٹل ہوناکونسا آسان ہے، یو ایس ایم ایل ای کا امتحان پاس کرتے کرتے ہی مت ماری جاتی ہے، پھر ریذیڈنسی اور پھر بچے، ایک کے بعد ایک مرحلہ سامنے آتا رہتا ہے۔ یہ تو ٹیکنالوجی کا اعجاز ہے کہ اب پرانی دوستوں سے رابطہ قائم ہو سکا ہے۔ سائرہ : اعجاز، تم نے یہ کس بدبخت کا نام لے لیا۔ نائیلہ : کیوں۔ یہ اعجاز کون ہے؟ سائرہ : وہ منحوس میرا میاں تھا۔ میرے ماں باپ نے اُس سے شادی کر دی تھی کہ لائق لڑکا ہے، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کا پڑھا ہے، سپیشلائزیشن کررہا ہے۔ شادی کے ایک ماہ بعد ہی میں نے دیکھ لیا کہ یہ تو اپنی ماں کے اثر میں ہے۔ جب دیکھو، امی امی کہہ رہا ہوتا تھا۔ امی نے کھانا کھایا ہے، امی نے یہ کہا ہے، امی یہ ...

اکیڈمی میں استادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مزاحیہ مضمون

Image

گھونگا اور میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک نظم

Image
گھونگا اور میں  نظم : عاطف ملک

القصر محل، اشبیلیہ، سپین -------------ویڈیو اور آواز عاطف ملک

Image

عطا کے لمحے

Image
تحریر : عاطف ملک جمعہ کو مسجد بھری ہوتی ہے۔ ایسا ملک جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، وہاں مسجد بھی فرق ہوتی ہے اور نمازی بھی فرق۔  مختلف رنگ ونسل کے، مختلف شباہتوں کے، مختلف لباس پہنے، مختلف زبانیں بولتے، مختلف طریقوں سے نماز پڑھتے، مختلف طرز کی تلاوت کرتے۔ ایسی رنگا رنگی کہ ہمیشہ فروٹ چاٹ یاد آجاتی ہے، مختلف ذائقے، مختلف رنگ، مختلف بناوٹ کے پھل مگر سب میٹھے۔  معاف کیجیئے گا، رمضان ابھی ختم ہوا ہے، عبادت اور فروٹ چاٹ دونوں کا ذائقہ ابھی تازہ ہے۔  اور اس مسجد کی کہانی فرق ہے۔ اس مسجد کے پیچھے طویل قانونی جنگ ہے، کئی سال کی عدالتوں کی پیشیاں، وکیلوں کی فیسیں اور لوگوں کا جذبہ، مشکلوں کے باوجود ناقابل شکست جذبہ۔ یہ مسجد ان مختلف شباہتوں، لباسوں، زبانوں کے لوگوں کی  انفرادی کہانیوں سے ملتی  جلتی ایک اجتماعی کہانی ہے۔  دیارِ غیر میں بسنا ایک جدوجہد ہے۔  معاشرہ فرق، رہن فرق، لباس فرق، زبان فرق، پودے فرق، چرند فرق، مذاق فرق، قانون فرق، اقدار فرق اور پھر یہ آکر بستے خوددار فرق۔ اس فرق کو بڑھاتی ایک نسل پرستی کی دیوار بھی کھڑی ہے۔ سفید نسل پرستی...

مدرسہ یوسفیہ، غرناطہ کی ایک ویڈیو

Image
غرناطہ کے سفر میں اس مدرسے کی خوبصورتی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے حسن نے مبہوت کر دیا۔ اس ویڈیو میں کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ پیش کرپایا ہوں۔ اس مدرسے کی تاریخ کے بارے میں تحقیق کے بعد ایک مضمون لکھا جو کہ مندرجہ ذیل لنک پر دیکھا جاسکتا ہے http://aatifmalikk.blogspot.com/2018/08/blog-post_6.html