Posts

فجر، مسجد، نکاح اور خاتون فوٹو گرافر

تحریر: عاطف ملک   صبح فجر کی نماز پڑھنے مسجد گیا تو   بہت کچھ مختلف رہا۔ یہ مسجد انڈونیشین مسلمانوں کے زیر انتظام ہے۔سب سے قبل تو امام نےدوسری رکعت میں سجدے میں جانے سے قبل ہاتھ اٹھا دیے اور   بآواز بلند     دعا      مانگنا شروع کردی۔ مجھے کچھ وقت لگا کہ سمجھوں کہ کیا ہورہا ہے۔   اس سے قبل رمضان میں   وتر   تو اس انداز میں   باجماعت پڑھے تھے مگر فجر کی نماز   کبھی ایسے نہ پڑھی تھی۔   بعد میں پتہ لگا کہ شافعی مسلک میں ایسے بھی فجر کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ فجر کی نماز ختم کرنے کے بعد امام نے بتایا کہ سب نمازی تشریف رکھیں کہ ایک نکاح پڑھایا جائے گا۔ فجر کی نماز کے وقت نکاح، یہ بھی نیا   تجربہ تھا۔ ایک گورا مسلمان آگے امام کے پاس   آیا،                              یہ برادر مائیکل تھا جس کا نکاح پڑھایا جانا تھا۔ دلہن مسجد میں خواتین والے حصے میں تھی۔ گواہ...

بندر تماشہ

  تحریر: عاطف ملک پرانی آبادی کے وسط میں واقع بڑے احاطہ کے گرد گھر اور گلیاں ہیں۔ اُس احاطے میں بچے کھیلتے اور بڑے سردیوں میں دھوپ سینکتے، بعض جگہ عمر رسیدہ لوگ زمین پر بیٹھے تاش، لوڈو یا بارہ ٹینی کھیل رہے ہوتے۔ کونے پر جانی نائی کی دکان ہے۔ یہ دکان اصل میں محلے کی بیٹھک ہے، اتوار کے دن بال کٹوانے والوں کے ساتھ ساتھ گپ شپ لگانے کے لیے بھی لوگ وہاں بیٹھ کر اخبار پڑھتے۔ کیبل آنے کے بعد سے چینلوں کی بہتات ہوگئی اور حاضرین اب اخبار سے زیادہ چینلوں سے مستفیذ ہوتے ہیں۔  دکان میں ٹی وی کا ریموٹ پکڑنے کے بہت لوگ شوقین ہیں مگر جب حامد فتنے کی ہاتھ میں ریموٹ ہو تو ٹی وی کے چینل مسلسل بدلتے رہتے۔ ابھی کسی مولانا کا خطاب چل رہا ہے جس میں سے حامد فتنہ کسی جملے کو سیاق و سباق سے الگ  کر کے رائے زن ہوتا تاکہ دکان کا ماحول گرم ہو، اس کے فوراً بعد وہ کسی انڈین فلم کا ہیجان انگیز آیٹم نمبر لگا کر حاضرین کو اس میں سے آرٹ نکال کر بتارہا ہوتا گو فتنے کی آنکھیں اور اطوار اُس کی چُھپی حسرتوں کے آئینہ دار ہوتے۔ دوسری جانب جانی کے ہاتھ میں چاہے اُسترا ہو یا قینچی وہ سیاست پر بھرپور رائے زن رہتا۔...

توھین

Image
    " آپ ایسی بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ یہ مسلمانوں کا ملک ہے، آپ ایسی بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ " اُس نوجوان کی آنکھوں میں غصہ اور آواز میں کاٹ تھی۔ وہ رواں انگریزی میں مجھ سے بات کررہا تھا، اور میں نے محسوس کیا کہ اُس کا انگریزی کا چناو دانستہ تھا۔ وہ مجھے باور کرانا چاہ رہا تھا کہ اُسے میں عامی نہ جانوں۔ مگر میں اُسے عام نہیں سمجھ رہا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کے الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبے میں داخلہ صرف اُن طالب علموں کو ملتا تھا جو ایف ایس سی میں نمایاں ترین ہوتے ہیں۔ مجھے علم تھا کہ اُن میں سے کچھ نے لاہور کی   یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں سول، میکینیکل انجینئرنگ   اور دوسرے شعبوں کے داخلے چھوڑ کر پنجاب یونیورسٹی کو فوقیت دی تھی کیونکہ وہ الیکٹریکل انجینئر بننا چاہتے تھے۔ وہ نوجوان عام نہیں تھا۔ مگر وہ عام تھا، وہ عام تھا کہ وہ ہمارے مطالعہ پاکستان کے مضمون کی مار تھا، وہ مضمون جس کی مار نے کئی خواص کو عام بنایا۔ وہ مضمون جو سکول کے بچوں میں سوچ کو مارتا اور عقلی استدلال کو طریقے سے ختم کرتا ہے۔ وہ ذہین تھا مگر بند ذہن بنا دیا گیا تھا۔ اس نو...