تحریر:عاطف ملک پچھلے دنوں فیس بک پر نوٹیفکیشنز آئیں کہ آپ کو ٹیگ کیا گیا ہے ۔ دیکھا تو چند پرانے طالبعلموں نے مختلف صفحات پر ان اساتذہ میں شامل کیا تھا جنہیں وہ یاد کرتے ہیں۔ اس سے قبل بھی کچھ پرانے طلبا نے جب پیشہ ورانہ زندگی شروع کرنے پر پڑھائے گئے مضمون کی افادیت پائی تو ای میل کر کے اپنے تاثرات بھیجے تھے۔ اپنے دامن میں جھانکتا ہوں تو کچھ بھی نہیں پاتا، بس ایک اطمینان ہے کہ وقت ِسوال کچھ تو پیش کرنے کے قابل ہوں گا۔ یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصہء محشر میں ہے پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے کچھ کہانیاں سنا پائے، کچھ زندگیوں میں اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کی، خود پیاسے تھے، آگے بھی پیاس دیتے رہے۔ شاباشیں دیں، ڈانٹیں بانٹیں، محبتیں جہاں ملیں، نفرتوں کا بھی شکار ہوئے۔ کہیں غلطیاں بھی کیں، بس نیت ٹھیک تھی۔ کچھ کے آگے چلے، کچھ ایسے ملے کہ جن کے پیچھے چلنے کو بہتر جانا۔ ایک ادھیڑ عمر طالبعلم ملا جس نے جدوجہد کے معنی سمجھا دیے۔ ایک انجینیرنگ پڑھ...
تحریر: عاطف ملک مسافر چین کو عازم ِسفر تھا۔ سفر بھی ایسے آیا کہ سال قبل ایک طالب علم کو ماسٹرز تھیسس کروایا تھا۔ طالب علم نے اس کام پر تحقیقی مقالہ لکھا اور کچھ کانفرنسوں میں بھجوایا۔ چین بلاتا تھا سو مقالہ منتخب ہو گیا سو اب کانفرنس میں شرکت کے لیےہم دونوں کا چین جانا ٹھہرا۔ کانفرنس لان زو شہر میں تھی۔ اب شہر کا پہلے نام بھی نہ سنا تھا۔ نقشے میں دیکھا تو شمال مغربی چین کے گانسو صوبے کا صدر مقام ہے۔ گانسو کا صوبہ تبت اورصدیوں قبل ہوا سے پھیلی سرخ مٹی کے سطح مرتفع کے درمیان واقع ہے۔ گانسو کے علاقے کا ایک حصہ صحرائے گوبی میں واقع ہے۔اس کی سرحدیں شمال میں منگولیا کے گووی لتائی ، اندرونی منگولیا اورچینی مسلمانوں کے صوبے ننگشیا جبکہ مغرب میں سنکیانگ اور چنگھائی ، جنوب میں سیچوان اور مشرق میں شانسی سے ملتی ہیں۔ دریائے زرد صوبے کے جنوبی حصے سے گزرتا ہے۔ چنگھائی چین کا ایک اندرون ملک صوبہ ہے جو رقبے کے لحاظ سے چین کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ شانسی صوبے کا دارلحکومت شیان ہے۔ شیان میں ایک اندازے ...
تحریر: عاطف ملک اس سے پچھلی قسط، ساتویں قسط درج ذیل لنک پر ہے۔ https://aatifmalikk.blogspot.com/2025/09/blog-post_19.html اگلے دن صبح ناشتہ یونیورسٹی کیفے ٹیریا میں کیا۔ناشتہ بوفے تھا اور ناشتے کی لوازمات بنانے والوں نے سفید ٹوپیاں پہن رکھی تھیں، سو ہم نے جانا کہ یہ سب مسلمان ہیں۔ لان زو کی عالمی شہرت یافتہ لان زو بیف نیوڈلز بنارہے تھے۔ کاریگررسی برابر نیوڈلز کا آٹا اٹھاتا تھا، دونوں ہاتھوں سے کھینچتا تھا، سینے کے سامنے گز بھر لمبائی کھینچنے کے بعد دونوں ہاتھ جوڑتا تھا اور اس دوران دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آٹے میں ڈال کی نئی رسیاں نکال لیتا تھا ، اسی کارِمسلسل میں کچھ دیر بعد باریک رگیں سامنے ہوتی تھیں، جنہیں پانی میں ابال لیا جاتا۔ مسافر نے سفرِ حیات پر نگاہ ڈالی کہیں بُنت اورجوڑ نقش ابھار لاتے ہیں اور کہیں حسن لکیروں کی باریکی میں آشکار ہوتا ہے۔ انداز فرق ہوسکتا ہے مگرحقیقت میں آشکار دستکار ہی ہے۔ یونیورسٹی کیفے ٹیریا میں لان زو نیوڈلز کے لوازمات لان زو نیوڈلز بنانے کا عمل ...
Comments
Post a Comment