تحریر: عاطف ملک مسافر چین کو عازم ِسفر تھا۔ سفر بھی ایسے آیا کہ سال قبل ایک طالب علم کو ماسٹرز تھیسس کروایا تھا۔ طالب علم نے اس کام پر تحقیقی مقالہ لکھا اور کچھ کانفرنسوں میں بھجوایا۔ چین بلاتا تھا سو مقالہ منتخب ہو گیا سو اب کانفرنس میں شرکت کے لیےہم دونوں کا چین جانا ٹھہرا۔ کانفرنس لان زو شہر میں تھی۔ اب شہر کا پہلے نام بھی نہ سنا تھا۔ نقشے میں دیکھا تو شمال مغربی چین کے گانسو صوبے کا صدر مقام ہے۔ گانسو کا صوبہ تبت اورصدیوں قبل ہوا سے پھیلی سرخ مٹی کے سطح مرتفع کے درمیان واقع ہے۔ گانسو کے علاقے کا ایک حصہ صحرائے گوبی میں واقع ہے۔اس کی سرحدیں شمال میں منگولیا کے گووی لتائی ، اندرونی منگولیا اورچینی مسلمانوں کے صوبے ننگشیا جبکہ مغرب میں سنکیانگ اور چنگھائی ، جنوب میں سیچوان اور مشرق میں شانسی سے ملتی ہیں۔ دریائے زرد صوبے کے جنوبی حصے سے گزرتا ہے۔ چنگھائی چین کا ایک اندرون ملک صوبہ ہے جو رقبے کے لحاظ سے چین کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ شانسی صوبے کا دارلحکومت شیان ہے۔ شیان میں ایک اندازے ...
تحریر: عاطف ملک اس سے پچھلی قسط، ساتویں قسط درج ذیل لنک پر ہے۔ https://aatifmalikk.blogspot.com/2025/09/blog-post_19.html اگلے دن صبح ناشتہ یونیورسٹی کیفے ٹیریا میں کیا۔ناشتہ بوفے تھا اور ناشتے کی لوازمات بنانے والوں نے سفید ٹوپیاں پہن رکھی تھیں، سو ہم نے جانا کہ یہ سب مسلمان ہیں۔ لان زو کی عالمی شہرت یافتہ لان زو بیف نیوڈلز بنارہے تھے۔ کاریگررسی برابر نیوڈلز کا آٹا اٹھاتا تھا، دونوں ہاتھوں سے کھینچتا تھا، سینے کے سامنے گز بھر لمبائی کھینچنے کے بعد دونوں ہاتھ جوڑتا تھا اور اس دوران دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آٹے میں ڈال کی نئی رسیاں نکال لیتا تھا ، اسی کارِمسلسل میں کچھ دیر بعد باریک رگیں سامنے ہوتی تھیں، جنہیں پانی میں ابال لیا جاتا۔ مسافر نے سفرِ حیات پر نگاہ ڈالی کہیں بُنت اورجوڑ نقش ابھار لاتے ہیں اور کہیں حسن لکیروں کی باریکی میں آشکار ہوتا ہے۔ انداز فرق ہوسکتا ہے مگرحقیقت میں آشکار دستکار ہی ہے۔ یونیورسٹی کیفے ٹیریا میں لان زو نیوڈلز کے لوازمات لان زو نیوڈلز بنانے کا عمل ...
تحریر: عاطف ملک اس سے پچھلی قسط، آٹھویں قسط درج ذیل لنک پر ہے۔ https://aatifmalikk.blogspot.com/2025/09/blog-post_24.html کانفرنس کاباضابطہ آغاز ہفتے کے دن ہوا۔ اب یہ بھی باقی دنیا سے الگ تھا کہ عموماً کانفرنسیں چھٹی کے دن نہیں ہوتیں بلکہ ہفتے کے درمیان ہوتی ہیں مگر چین میں یہ کانفرنس ہفتہ واری چھٹی کے دن تھی۔ آغاز پارٹی کے ایک عہدیدار کی تقریر سے تھا۔ ایک بڑا ہال تھا جس میں لمبائی رخ میزیں لگائی گئی تھیں۔ سب بندہ ومحتاج و غنی کے لیے ایک سی نشستیں اور میزیں تھی۔ میزیں اور کرسیاں جن پر سفید کپڑا چڑھایا گیا تھا، ایک پانی کی بوتل ہر نشست کے سامنے دھری تھی۔ مملکتِ خدادا د میں جو آگے خوبصورت صوفے لگائے جاتے ہیں، وہ وہاں نہ تھے۔ وہ صوفے جن کو لگانے اور اٹھانے کے لیے بوسیدہ کپڑے پہنے لاغر تن اپنی کمریں دوہری کر رہے ہوتے ہیں وہاں نظر نہ آئے۔ پہلی کلیدی تقریر ہانگ کانگ یونیورسٹی کے پروفیسر مو لی کی تھی۔ وہ انسٹیوٹیٹ آف الیکٹریکل انجینئرنگ کے فیلو ہیں، یہ رتبہ انہیں وائرلیس کمیونیکیشن ...
Comments
Post a Comment