Posts

چند مزاحیہ قطعات

Image
چند مزاحیہ قطعات  شاعر : عاطف ملک

مستقبل کے روزگار کی تیاری : ایک لیکچر

Image
Related links to this talk: Finalist Urdu short story at Oxford University Press competition http://aatifmalikk.blogspot.com/2017/10/PencilTarash.html English translation of the story http://aatifmalikk.blogspot.com/2017/10/englishTranslationPencilSharpner.html Facebook page of Zarar Trust : www.facebook.com/zarartrust Website : www.zararhospital.com References to material of the talk : 1. https://www.oxfordmartin.ox.ac.uk/downloads/academic/The_Future_of_Employment.pdf 2. https://fortune.com/2019/01/10/automation-replace-jobs/ 3. https://www.trtworld.com/life/how-robots-are-stealing-human-jobs-and-threatening-our-future-28285 4. https://www.digitaltrends.com/cool-tech/examples-of-robots-replacing-jobs/ 5. https://www.pwc.com/gx/en/ceo-survey/2017/deep-dives/ceo-survey-global-talent.pdf 6. https://www.techrepublic.com/article/when-85-of-the-jobs-of-2030-havent-been-created-yet-how-do-you-prepare/ 7. https://www.delltechnologies.com/content/dam/delltechnologies/asse...

نیلام گھر میں دو نادان --------آیڈیو

Image
  یہ عاطف ملک کی ایک تحریر کی آیڈیو ہے ۔  تحریر درج ذیل لنک پر پڑھی جاسکتی ہے http://aatifmalikk.blogspot.com/2020/06/blog-post_20.html

نیلام گھر میں دو نادان

تحریر: عاطف ملک لاہور کے الحمرا ہال میں نیلام گھر کی ریکارڈنگ ہورہی تھی۔ سٹیج پر دو بیس سال کی عمر کے لگ بھگ نوجوان بیٹھے تھے۔  طارق عزیز نے اُن سے سوالات پوچھنے شروع کیے۔  لیکن رکیے، اگر آپ نے ان دونوں کو سٹیج پر جاتے دیکھا ہو تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ دونوں تھوڑے سے گھبرائے ہیں۔ سٹیج پر جاتے انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور ہلکا سا مسکرائے تھے، ایسے کہ جیسے دونوں نے ایک دوسرے کو حوصلہ دیا ہو۔ دونوں کے بال ایک ہی طرح کے تراشیدہ تھے، ایک کی داڑھی ترتیب اور بے ترتیبی کے درمیان بڑھی تھی جبکہ دوسرا کلین شیو تھا۔ اگر آپ غور کرتے تو دیکھ لیتے کہ دونوں نے اُس عمر کے عام لڑکوں کی طرح جینز نہیں بلکہ پتلونیں پہن رکھی تھیں اور ان کی استری شدہ قمیصوں کے بٹن گریبان تک بند تھے۔ اگر آپ یہ سب کچھ دیکھ لیتے تو آپ یہ بھی جان لیتے کہ وہ دونوں شاید دوست نہیں بلکہ راہی ہیں، جنہیں ایک اتفاق اٹھا کر اُس سٹیج تک لے آیا تھا۔ یہ زندگی بھی عجب اتفاقات سے پُرہے۔  ان میں ایک لڑکا کراچی کا رہنے والا میمن تھا جس کا تعلق حاجی عبدالرزاق یعقوب کے خاندان سے تھا۔ اس کا مطلب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ یق...

یادوں کا بومرنگ

Image
یادوں کا بومرنگ تحریر : عاطف ملک استاد نے اپنی چادر جھاڑی، کئی یادیں نکل کر باہر آپڑیں۔ وہ ان یادوں کو وہیں چھوڑ دینا چاہتا تھا مگر یادیں بھاگ کر پھر واپس آجاتیں۔ اس نے سوچا یہ یادیں بھی کیا بومرنگ ہیں، جتنی زور سے دور پھینکو، اتنی تیزی سے واپس آجاتی ہیں۔ آسٹریلین مقامی لوگوں نے صدیوں پہلے لکڑی سے شکار کی خاطر یہ ہتھیار بنانا سیکھا تھا، ہوا میں گھومتا تیرتا جاتا ہے اور جانور کے سر پر لگتا ہے۔ کیا خوبصورت سادہ سا ہتھیار ہے، ایک خم دار لکڑی جس کی ایک سطح رگڑ کے ہموار کر دی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف کی سطح کو ایسے بنایا جاتا ہے کہ آہستہ سے ڈھلوان لیتی نیچے کو آتی ہے بعین جیسے کسی ہوائی جہاز کے پر کی اوپری جانب ہوتی ہے۔ بیس ہزار سال کا ہتھیار آج کے جہاز کا جدامجد کہا جاسکتا ہے۔ ایروفوائل ہوا میں اٹھتی، گھومتی، تیرتی، بیٹھتی شکار کرتی یا بے آواز واپس کو لوٹتی۔   استاد نے سوچا یاد بھی بومرنگ کی طرح گھوم کر آتی ہے؛ بے آواز، ہوا میں تیرتی، دور جاتی نظر آتی اور پھر دائرے میں گھومتی واپس آجاتی ہے، بے آواز شکار کرتی، فرق صرف یہ ہے کہ یاد کا شکار کوئی اور نہیں بلکہ پھینکنے والا ہوتا ہے۔ پ...

بوڑھا اور شہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آیڈیو

Image
یہ عاطف ملک کے افسانے " بوڑھا اور شہر" کی آیڈیو ہے۔  یہ افسانہ مندرجہ ذیل لنک پر پڑھا جاسکتا ہے۔  http://aatifmalikk.blogspot.com/2020/05/blog-post.html جبکہ اس کی آیڈیو یو ٹیوب پر نچلے لنک بھی سنی جاسکتی ہے۔ https://youtu.be/jd-pyXPxruo

شہر بھی انسان ہے

تحریر: عاطف ملک ڈاکٹر نے سوچا بوڑھا مر رہا ہے۔ ڈاکٹر کے ذہن میں بوڑھا کبھی بوڑھا نہیں تھا۔ اُس کا اور بوڑھے کا بچپن سے تعلق تھا۔ بچپن، جب ڈاکٹر بچہ تھا اور بوڑھا بوڑھا نہ تھا۔ آج جب بوڑھا مر رہا تھا تب بھی ڈاکٹر کے ذہن میں اس کا عکس کئی دہائیوں قبل کا تھا؛ پیچھے کو سنوارے بال، ذہانت کا اظہار کرتی گہری آنکھیں، کالے فریم کی عینک لگائے مسکراتا جوان چہرہ جس پر بچپن کی کسی شرارت کی عطا میں ماتھے کی ایک جانب گہرے زخم کا نشان تھا۔ ڈاکٹر کے لیے وقت  اسی منظر پر رکا ہوا تھا۔ ڈاکٹر کو علم نہیں تھا کہ یہ عکس تھا یا نقش تھا۔ یہ نقش ہی ہوگا، عکس تو بدل سکتا ہے مگر نقش نہیں بدلتا۔ مگر یہ نقش چپکے چپکے بنا تھا، نقش جو عکس تھا اور گہرا ہوتا چلا گیا۔ یہ کپڑے پر لگایا گیا ٹھپہ نہ تھا کہ ایک ضرب کے ساتھ ہی چھپ جائے، یہ تو وقت کے ساتھ آئی جھریوں کی مانند چپ چاپ روح میں اُترتے نشان تھے؛ پکے، گوڑے، انمنٹ، شناخت کے طور پر لکھی گئی علامت، ذہن پر کنداں کی گئی پکی تحریر، اہرام مصر سے نکلنے والی ڈھیٹ تحریر جو سمجھ میں نہ آئے مگر ہر حالات میں صدیاں سہار لیتی ہے۔ یہ نقش تھا۔  ڈاکٹر کے لیے بوڑھا بوڑھا نہ ت...