Posts

ایک پرانی تصویر

ایک پرانی تصویر تحریر : عاطف ملک ایک پرانی تصویر کسی نے بھجوائی ہے تو کیا کیا یادیں بھاگی بھاگی آن پہنچی ہیں۔  یہ زندگی شروع کرتے کچھ لڑکے اکٹھے کھڑے ہیں۔ لڑکے؟ مرد ؟ نوجوان؟ یہ کون ہیں، یہ تو عام سے لڑکے ہیں، گندمی رنگ، بال سنوارے، شیو بنائے، داڑھی مونچھ تراشے، عام سے لڑکے، کسی گلی کے موڑ پر کھڑے آوارہ گرد، روایتی، رواجی سے لڑکے۔ ان جیسوں سے ہر بازار بھرا پڑا ہے۔ غور سے دیکھیے، تصویر پر توجہ دیجیئے۔ کچھ نظر آیا؟ ان کی آنکھوں کی چمک دیکھئیے۔ یہ کون ہیں؟   یہ بکھری کہانیاں ہیں؟  یہ زندگی شروع کرتی کچھ کہانیاں ہیں، کہانیاں، جی کہانیاں، متوسط طبقے سے تعلق رکھتے، اپنے وطن سے ہزاورں میل دور، ایک اجنبی زبان بولتے بیگانے معاشرے میں روشن مستقبل کی آس میں اپنے گھر بار سے دور نکلے طالب علم ہیں۔ طالب علم ؟ نہیں، یہ طالب علم نہیں ہیں۔ کیوں جھوٹ بولتے ہو، یہ محنت کش ہیں، مزدور، مستقبل کی اُجرت کے وعدے پر پہاڑ کاٹتے تیشہ زن ہیں، یہ کان کن ہیں۔ مجھ سے مت جھوٹ بولو، یہ طالب علم نہیں ہیں۔  انہوں نے دیارِغیر میں پڑھنا ہے، اپنا خرچہ نکالنا ہے، اپنی فیسیں ادا کرنی ہیں، پیچھے دیس...

پرانی کوٹھی، قسط ۱

پرانی کوٹھی تحریر : عاطف ملک میں اور میرے میاں کچھ عرصے سے خریدنے کے لیے گھر ڈھونڈ رہے تھے۔ یہ گھر خریدنا بہت مشکل کام ہے خصوصاً اگر آپ کے پاس پیسے کم ہوں اور اگر آپ کے ذہن میں پہلے سے خیال ہو کہ آپ کیسا گھر خریدنا چاہتے ہیں، تو یہ اور مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمارے  معاملے میں مسلہ اور گھمبیر تھا کیونکہ ہم ایک پرانا گھر خریدنا چاہتے تھے۔ کم پیسوں کے ساتھ پرانا گھر ہی خریدا جاسکتا ہے، مگر ہمارا مسلہ یہ تھا کہ ہم ایک خاص قسم کا پرانا گھر خریدنا چاہتے تھے۔   خاص قسم کا پرانا گھر، چلیے، میں آپ کو اس کا پس منظر بتاتی ہوں۔ میرے میاں کا نام شاہجہاں ہے مگر وہ بادشاہ نہیں ہیں۔ میرا نام ممتاز ہے اور آپ سمجھ ہی گئے ہونگے کہ میں کوئی ملکہ نہیں ہوں۔ میں ابھی زندہ ہوں اور ابھی زندہ رہنا چاہتی ہوں۔ کئی وجوہات ہیں ایک تو میرا شاہجہاں میرے لیے کوئی تاج محل نہیں بنا سکتا، وہ تو خود میرے ساتھ مل کر پیسے کمانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ دوسرا زندگی میرے لیے کشش رکھتی ہے، یہ کشش دھیمی سی مگر طاقتور ہے۔ میری زندگی سے محبت کسی ناری کی اٹھتی ہوئی جوانی کی زور مارتی کشش نہیں ہے، بلکہ برسات ...

The Highlander

Written  in Urdu b y Atif Malik , Translated in English by Suhail Akhtar The original Urdu writing is available at http://aatifmalikk.blogspot.com/2020/02/blog-post.html A faint smile clung to the aging highlander’s lips as he squinted at the snow-capped peaks of the distant mountains. He could make out the tiny rivulets that came down the mountainside as the summer sun battled the accumulated snow. Over time, the rivulets had cut deep ravines into the mountainside which were bordered by deep snow on both sides. As he gazed upon brilliant blue of the summer sky, the old man’s smile grew a little deeper. He knew that the sky is a brighter blue when viewed from the mountain top. It made him think of the night sky, which is even more wondrous, brimming with a multitude of bright twinkling stars, like the shimmering beads sewed on to an innocent child’s quilt. These mountains were a part of the highlander’s life. When he stood up his hulking frame reminded passerby’s...

خورشید بہ روزنے در افتاد و برفت

تحریر : عاطف ملک بوڑھے کوہستانی نے دور سامنے نظر آتے پہاڑوں پر نظر ڈالی۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ دور پہاڑ جن کی چوٹیاں گرمیوں میں لکیر دار ہوجاتی ہیں؛ دھوپ جہاں جیت جائے وہاں برف پگھل جاتی ہے، پانی کی لکیر بن کر نیچے کو بہہ جاتی ہے۔ اور اس لکیر کے آس پاس برف جمی رہتی ہے۔ پہاڑ  سے نیچے اترتا راہ، گہرا راہ مگر برف سے بھرا رہتا ہے، سفید برف سے بھرا راہ جس پر نیلا آسمان اپنا رنگ ڈالتا ہے۔ پہاڑ کے اوپر کے آسمان کو دن میں دیکھو تو کچھ زیادہ ہی نیلا لگتا ہے، اور رات کو دیکھو تو ایسا ستاروں سے بھرا ہوتا ہے کہ کسی معصوم کی جھلملاتے تاروں سے سجی اوڑھنی ہو۔ بوڑھا کوہستانی مسکرا رہا تھا، یہ پہاڑ اس کی زندگی کا حصہ تھے۔ اس کی داڑھی برف کی مانند  سفید تھی، جھاگ کی مانند سفید، اور وہ خود دھوپ کی مانند اجلا تھا۔ وقت کی دھوپ نے اس کی  داڑھی کے رنگ کو پگھلا کر سفید کر دیا تھا مگر وہ اب بھی جب کھڑا ہوتا تھا تو ایک رعب ساتھ لے کر کھڑا ہوتا تھا۔ اس کے سر کے اوپر آسمان کچھ زیادہ ہی نیلا لگتا تھا۔ بوڑھے کوہستانی کے چہرے پر وقت نے لکیریں ڈال دی تھیں۔ لکیر جہاں سے کبھی آنسو بہے ہ...

سرکاری فائل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھوپھی جان کے نام ایک خط

تحریر: عاطف ملک پیاری پھوپھی امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگی۔ آپ میرے سویڈن آنے کے انتظار میں ہیں۔ میں بھی امید کررہا تھا کہ میں اب تک آپ کے پاس چکر لگا لیتا، مگر کیا کروں کہ عقلمندوں کے ہاتھ لگ گیا ہوں۔ اور آج کل گلشن میں عقلمندوں کی ایسی بہتات ہے کہ شاخوں سے اتر کر کرسیوں پر آن بیٹھے ہیں۔  آپ خفا ہیں کہ میں اب تک کیوں نہیں پہنچا۔ کہانی کچھ لمبی ہے اورعالمانہ ہے مگر یہ عالمانہ علم سے متعلقہ نہیں بلکہ اس بے ثبات عالم کے متعلق ہے۔ مجھے یاد ہے کہ آپ بہت خوش ہوئی تھیں جب آپ کو پتہ لگا کہ میرا ایک ریسرچ پیپر ناروے کی ایک کانفرنس میں قبول ہوگیا اور موقع سے فائدہ اٹھاتے میں آپ کے پاس سویڈن بھی چکر لگاونگا۔ آپ کی اردو کا تو میں ہمیشہ سے معترف رہا ہوں اور آپ نے قبول کے لفظ پر جو تبصرے کیے تھے وہ میری خوشی کا باعث بنے کہ قبول کو چھوٹا لفظ نہ جانو یہ تو زندگیوں کا احاطہ کر لیتا ہے۔ آپ نے میری ایک تحریر پڑھ کر جو فارسی کہاوت مجھے لکھ بھیجی تھی، اس نے بڑا لطف دیا کہ " قبول خاطر و لطف سخن خُداد است" کہ کلام یا تحریر میں خوبی اور دل پسندی خداداد ہوتی ہے۔ مگر یہ جو"ق...

الحمرا اور مسافر, قسط اول

Image
تحریر : عاطف ملک تصاویر : عاطف ملک و محی الدین غرناطہ کی سیاحت کے متعلق تحریر مندرجہ ذیل لنک پر پڑھی جاسکتی  ہے۔ https://aatifmalikk.blogspot.com/2020/01/blog-post_5.html اس مضمون کے شروع میں  غرناطہ پر غور کرتے ہوئے سپین کی تاریخ پر پہلے تھوڑی نظر ڈالتے ہیں ۔ سپین میں مسلم حکومت 711 عیسوی سے 1492 عیسوی تک تقریباً لگ بھگ آٹھ سو سال رہی۔ اس دور کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، جس میں کچھ وقت امن کے گذرے اور بعض میں مسلسل باہمی لڑائی اور خانہ جنگی رہی۔   سپین میں اموی خلافت کے 1013 عیسوی میں ٹوٹنے کے بعد مسلم سپین کے کئی ٹکڑے ہوگئے اور مختلف خاندان حکومت کرنے لگے۔ یہ دور پڑوسی عیسائی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ مسلمان حکمرانوں کی باہمی جنگوں کا تھا۔ نتیجتاً مسلمان شکست کھا کر اپنے علاقے عیسائی حکمرانوں کے ہاتھ دیتے رہے۔ 1236 عیسوی میں قرطبہ کی فرنینڈو سوم کے ہاتھوں شکست کے بعد غرناطہ کا واحدعلاقہ مسلم حکمرانی میں بچا۔ اس حکمرانی کا خاتمہ 2 جنوری 1492 کو ہوا جب  فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا  کے لشکر کے سامنے بنو نصر کے  آخری  حکمران ابو عبداا...