Posts

Showing posts from April, 2026

قبرستان کہانیاں

تحریر: عاطف ملک قبرستان کے باہر لکڑی کے تختے  پر گلاب کی پتیوں کا ڈھیر تھا۔ وہ پتیاں جو مرجھاتے ہوئے پھولوں سے اتاری گئیں، اور ان پتیوں سے زیادہ مرجھائی عورت  لکڑی کے تختے پر بیٹھی ان پتیوں کو فروخت کر رہی تھی۔ وہ لکڑی کا تختہ اور لاشوں کو نہلانے کے تختے کا ماخذ ایک ہی تھا۔  قبریں، کیکر کے درختوں سے گرتے پتے اور زمین پر بکھرے کانٹے، کسی  کم سن کی کچی قبر پر بکھرے سرخ دال کے دانے، گورکن کےغمزدہ کمرے کے باہر بھنگ گھوٹتا مریل جسم، اپنی عمریں ضائع کرتی پکی قبریں اور زمین میں  دھنستی کچی قبریں؛ قبرستان کا منظر اپنی صدا لگاتا ہے۔  قبروں کے درمیان سے بل کھاتے رستے جو کسی اور قبر کے آنے سے بند ہوجاتے، کچی راہیں جو قبروں میں چلتی یک دم رک جاتیں، ایسے ہی جیسے کئی قبر وں کے مکین یک دم چلتے گرے  تھے، کبھی نہ اٹھنے کے لیے۔  قبرستان  کے راستے لوڈو کھیل کے سانپوں کی مانند بے ترتیب ہوتےہیں، اور یہاں تک کا سفر بھی شاید کسی اتفاقیہ کھیل  کا تابع ہے۔ اُس دن ایک کوا اڑتا قبرستان پہنچا اور اس نے کائیں کائیں کے بیچ میں رک کر اتفاقاً کم سن کی قبر پر بکھری سرخ ...