سوال


وہ   دن بھی عجب تھا۔ اس دن دو واقعات پیش آئے۔ دونوں کا ایک دوسرے سے براہ راست تعلق نہ تھا ،مگر  ایک تعلق ضرور تھا۔

لاہور میں گھر کے ساتھ ایک پارک ہے۔ اکثر صبح کے وقت میں اور اہلیہ وہاں  واک کے لیے جاتے ہیں۔ اس دن صبح کے وقت سیر کے لیے نہ جاسکے سو  دوپہر کے وقت جاپہنچے۔ دیکھا کہ پارک میں داخل ہونے والاسلاخ دار دروازہ تالہ بند ہے۔ پارک میں کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ ایک تقریباً دس سال کا بچہ سامنے تھا۔ اُس سے پوچھا کہ میاں پارک کیوں بند ہے؟ کہنے لگا کہ پارک صبح کچھ گھنٹے کھلتا ہے اور اس کے بعد بند کردیا جاتا ہے۔ کھلا پارک ہے مگر زنداں کی مانند کا سلاخ دار دروازہ کبھی کھولا جاتا ہے اور پھر مقفل ہو جاتا ہے کہ  آزادی اور قید دونوں کے احساس ساتھ ساتھ چلیں۔

پوچھا، میاں تم کیسے پارک میں داخل ہوئے؟ کہنے لگا شوق سچا ہو تو راہ نکل ہی آتی ہے۔ مقفل دروازے کے نیچے کے  چوکور چوکٹھے کی جانب اشارہ کیا کہ جب راہ بند ہو تو نیا راہ ڈھونڈا جاتا ہے سو یہ راستہ اپنایا ہے۔   کوئی مسلہ نہیں ہے، ادھر سے تشریف لائیں۔

ہماری ہچکچاہٹ کو بھانپ گیا سو حوصلہ افزائی کے لیے کہنے لگا   کہ میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔ فوراً  چوپایہ ہوا اور چوکٹھے سے باہر نکل آیا۔ نکلنے کے بعدمزید حوصلہ افزائی کے لیےپھر الٹ پارک میں داخل ہونے کا بھی مظاہرہ کیا۔ کہتا تھا کہ حوصلہ کیجیئے، آپ کے لیے پارک حاضر ہے۔  ہم اس بچے کی اتباع کرنا چاہتے تھے مگر عقلِ عیار کی دانائی  اور پیٹ کی گولائی دونوں  آڑے تھے۔  مسکراہٹ ساتھ تھی اور اندر کا بچہ خوش تھا کہ اُس بچے نے اپنے برابر جانا تھا۔

اُسی دن بعد میں ایک سرکاری دفتر جانا پڑا۔ کلرک بادشاہوں سے واسطہ پڑا۔   غرض مند کو ایک طرف بیٹھنے کا کہا اور کلرک اپنے کاموں میں مصروف رہے۔صورت  پر بیزار ی اور برتاؤ میں اکتاہٹ تھی۔  خیال ہے کہ ایسا  برتاؤ دانستًا تھا کہ بہتر برتاؤ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔  غرض مند ایک جانب بیٹھا تماشہِ اہل کلرکاں  دیکھتا رہا۔متعلقہ  کلرک غرض مند کو نظر انداز کیے تھا اور دوسری جانب بیٹھا ہیڈ کلرک اپنے موبائل پر کچھ گوناگوں ویڈیوز دیکھنے میں مصروف تھا۔اتنے میں  ایک کلرک ہیڈ کلرک کے پاس آیا اور دونوں کھسر پھسر میں مصروف ہو گئے، لگتا تھا کہ کسی  دیہاڑی  کا معاملہ طے ہورہا  تھا۔ یکایک ہیڈ کلرک کو ناچیز کی موجودگی کا احساس ہوا۔  فوراً متعلقہ کلرک کو مخاطب ہوا اور پوچھا، " یہ بزرگ کس کام کے لیے بیٹھےہیں؟"۔دیہاڑی کے بیوپار اور اعلی مرتبت کی نظر پڑنے کی بناپر  بزرگ کا کام فوراً    کر دیا گیا۔

شام کو مسافر بیٹھا سوچ رہا ہے کہ وہ کون ہے؟

یکایک ایک مسکراہٹ  غیب سے نمودار ہوئی اور جواب بتلا گئی ۔ 

 


Copyright © All Rights Reserved
No portion of this writing may be reproduced in any form without permission from the author. For permissions contact:
aatif.malikk@gmail.com 
#AatifMalik, #UrduAdab, #Urdu

   

 

Comments

Popular posts from this blog

چین کا سفر، قسط اول

چین کا سفر، پانچویں قسط

چین کا سفر، آٹھویں قسط