Posts

چین کا سفر، بارہویں قسط

Image
     تحریر: عاطف ملک پچھلی قسط (گیارہویں)  درج ذیل لنک پر ہے: https://aatifmalikk.blogspot.com/2025/10/blog-post_20.html   راہ   میں کئی منظر تھے۔ ایک     بنک بند تھا مگر اس کے سامنے فٹ پاتھ پر کرسی پر براجمان ایک چینی   مٹھی چاپی کروا رہا تھا ، سامنے ایک گتے کے بورڈ پر دس یوان کا ریٹ بڑا بڑا لکھا تھا۔   مالش کروانے والا موٹا تازہ چینی تھا جس کے کندھوں پر تولیہ رکھ کر   مالشی کندھے دبار ہا تھا۔   مالشی کے سر منڈھے سر پر مشین پھری تھی اور اس   نے زرد رنگ کی پتلی واسکٹ قمیص پر پہن رکھی تھی، جس پر چینی زبان میں کچھ لکھا تھا۔ مسافر نے گمان میں وہ تحریر پڑھی، لکھا تھا" شہر کاسب سے بہترین مالشی"۔   مسافر نے سفرِ حیات میں کئی مالشی دیکھے تھے، سب اپنے فن کو نکھارے تھے مگر بورڈ نہیں لگائے تھے کہ وہ فٹ پاتھ پر نہیں بلکہ ایر کنڈیشنڈ دفاتر میں مالش کرتے تھے۔مسافر کو   لان زو کی اُس فٹ پاتھ پر وہ اس مالشی کے   ساتھ       کھڑے نظر آئے، ٹائی کوٹ پہنے مگر ان کے کاندھوں پر تولیے دھرے تھے اور ان کے سر...

کشتی نوح

  لرزتی کشتی میں کون ایک مسافر، ایک کہانی کار لرزتی کشتی کی کہانی سوار ہی جانتا ہے کائنات سمٹ کر کشتی میں بیٹھی ہے جم کر مگر لرزتی کشتی میں جم کر بیٹھی کائنات ہے لرزتی کائناتی کشتی ایک نکتہ اگر الٹ گئی تو کشتیِ نوح کے حیوانِ ناطق کی کہانی بہے گی، مٹے گی ایک نکتہ  سمجھ میں مشکل کہ منظر نگاہ کا تابع کچھ ہے یا شاید کچھ بھی نہیں ہے (عاطف ملک)  

چین کا سفر، گیارہویں قسط

Image
تحریر: عاطف ملک پچھلی (دسویں) قسط درج ذیل لنک پر ہے: https://aatifmalikk.blogspot.com/2025/10/blog-post_14.html   کانفرنس عشائیہ کے بعد چینی طالب علم نے ٹیکسی منگوائی اور مسافر ، پاکستانی طالبہ اور چینی طالب علم    دریائے زرد پر پل ِ آہن دیکھنے چل پڑے۔ یہ پل انیس سو نو میں دریائے زرد پر بنا تھا اور اس دریا پر تعمیر کیا جانے والا پہلے پل تھا۔ پل سے پہلے ہی گاڑیوں کا ہجوم تھا اور ٹریفک بہت سست چل رہی تھی سو ہمیں پچھلے دن کے تجربے سے علم ہوگیا کہ آج درست راہ پر ہیں۔ پل سے کچھ قبل ہی ٹیکسی سے اتر گئے۔   دریا کنارے فٹ پاتھ پر پل کی جانب چلنے لگے۔ راہ میں حجاب اوڑھے چینی مسلمان خواتین اپنے خوانچے لگائے اشیاء فروخت کر رہی تھیں۔     موسم خوشگوار تھا اور ایک ہجوم چل رہاتھا۔ سڑک اب ٹریفک کے لیے بند تھی، مگر الیکٹرک سکوٹر اور سائیکلیں بہت تھیں۔ فٹ پاتھ پر چلتے پتہ نہیں چلتا تھا   کہ کب یہ الیکٹرک سکوٹرآپ تک دبے پاؤں آن پہنچیں۔ ا ن کی رفتار کم ہوتی ہے اور سوار عموماً ہیلمٹ نہیں پہنے ہوتے۔ پانی کے لیے انتظام تھا کہ آپ اپنی بوتل بھر لیں۔جابجا بینچ نصب تھے اور لو...